کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جو بات تم پر واضح ہو اس پر عمل کرو، اور جو تم پر مشتبہ ہو اسے اس کے عالم کی طرف لوٹا دو
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا السَّرِي بن يحيى التَّمِيمي، حدَّثنا قَبيصة بن عُقبة، حدَّثنا سفيان، عن أسلَمَ المِنْقَري، قال: سمعت عبد الله بن عبد الرحمن بن أبْزَى يحدِّث عن أبيه، قال: لما وقع الناسُ في أمر عثمان قلت لأُبيِّ بن كعب: أبا المُنذر، ما المَخرجُ من هذا الأمر؟ قال: كتابُ الله وسنةُ نبيِّه، ما استبانَ لكم فاعْمَلُوا به، وما أشكَلَ عليكم فكِلُوه إلى عالِمِه (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5321 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5321 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابزی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملے (فتنے) میں مبتلا ہوئے تو میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے عرض کی: اے ابو المنذر! اس فتنے سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت، جو بات تم پر واضح ہو جائے اس پر عمل کرو اور جو بات مشتبہ ہو اسے اس کے جاننے والے (اللہ) کے سپرد کر دو۔“
حدَّثنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدَّثنا الحسن بن مُكرَم، حدَّثنا يزيد بن هارون، عن محمد بن إسحاق: أنَّ رسول الله ﷺ آخَى بين أصحابِه، فآخَى بينَ أُبي بن كعب وسعيد بن زيد بن عمرو بن نُفَيل (1).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن اسحاق سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا، چنانچہ آپ ﷺ نے سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ (مواخاۃ) قائم فرمایا۔