أخبرنا أبو النَّضْر الفقيه، حدَّثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدَّثنا الحسن بن بِشر البَجَلي، حدَّثنا الحكَم بن عبد الملك، عن قَتَادةَ، عن قيس بن عُبَادٍ، قال: شهدتُ المدينةَ، فلما أقيمتِ الصلاةُ تَقدّمتُ فقمتُ في الصفِّ الأول، فخرج عمر بن الخطاب، فشَقَّ الصُّفوفَ ثم تقدَّم، وخرج معه رجلٌ آدَمُ خفيفُ اللِّحيةِ، فنظر في وُجُوه القوم، فلما رآني دَفَعَني وقام مكاني، واشتدَّ ذلك عليَّ، فلما انصرف التفتَ إليَّ فقال: لا يَسُؤْك ولا يَحزُنُك، أشَقَّ عليك؟ إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "لا يقومُ في الصفِّ الأولِ إِلَّا المُهاجرون والأنصار"، فقلت: مَن هذا؟ فقالوا: أبَيُّ بن كعب (2).
هذا حديث تفرَّد به الحكَم بن عبد الملك عن قَتَادةَ، وهو صحيحُ الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5323 - صحيح
هذا حديث تفرَّد به الحكَم بن عبد الملك عن قَتَادةَ، وهو صحيحُ الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5323 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
قیس بن عباد بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ میں حاضر تھا، جب نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو میں آگے بڑھ کر پہلی صف میں کھڑا ہو گیا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تشریف لائے، صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے، ان کے ساتھ ایک گندمی رنگت اور ہلکی داڑھی والے شخص (سیدنا ابی بن کعب) بھی نکلے، انہوں نے لوگوں کے چہروں کی طرف دیکھا، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو مجھے پیچھے ہٹا کر میری جگہ کھڑے ہو گئے، مجھے یہ بات بہت گراں گزری، جب نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”(اے نوجوان!) تم برا نہ ماننا اور نہ غمگین ہونا، کیا تمہیں یہ بات گراں گزری ہے؟ اصل میں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”پہلی صف میں صرف مہاجرین اور انصار ہی کھڑے ہوں۔“ میں نے پوچھا: یہ کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اسے قتادہ سے روایت کرنے میں حکم بن عبد الملک منفرد ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اسے قتادہ سے روایت کرنے میں حکم بن عبد الملک منفرد ہیں۔
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا السَّرِيّ بن يحيى، حدَّثنا قَبِيصة، حدَّثنا سُفيان، عن أسلَمَ المِنْقَري، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن أَبْزَى، عن أبيه (1)، عن أُبي بن كعب، قال: قال رسول الله ﷺ: "أُنزلت علَيَّ سورةٌ وأُمرتُ أن أُقرِئَكَها"، قال: قلتُ: أسُمِّيتُ لك؟ قال: "نعم". قلت لأُبيٍّ: أفرِحْتَ بذلك يا أبا المُنذِر؟ قال: وما يَمنَعُني والله تعالى وتبارك يقول: (قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وبَرَحمَتِهِ فَبِذلِكَ فَلْتَفْرَحُوا (2)) [يونس:58] (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5324 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5324 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہیں وہ پڑھ کر سناؤں۔“ میں نے عرض کی: کیا (اللہ کی جانب سے) میرا نام لیا گیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ (راوی کہتے ہیں) میں نے ابی بن کعب سے پوچھا: اے ابو المنذر! کیا آپ کو اس بات سے خوشی ہوئی؟ انہوں نے فرمایا: مجھے خوش ہونے سے کون سی چیز روک سکتی ہے جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا﴾ ”آپ فرما دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے، پس چاہیے کہ وہ اس پر خوشیاں منائیں۔“ [سورة يونس: 58]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا أبو يحيى محمد بن عبد الله بن محمد بن عبد الله بن يزيد المُقرئ الإمامُ بمكة في المسجد الحرام، حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن علي بن زيد الصائغ، حدَّثنا أحمد بن محمد بن القاسم بن أبي بَزَّة، قال: سمعت عِكْرمةَ بن سُليمان يقول: قرأتُ على إسماعيل بن عبد الله بن قُسطَنْطِينَ، فلما بلغتُ ﴿وَالضُّحَى﴾ قال لي: كَبِّرْ عند خاتمةِ كلِّ سورةٍ حتى تَختِمَ، فإني قرأتُ على عبد الله كَثير، فلما بلغتُ ﴿وَالضُّحَى﴾ كَبَّر حتى خَتَمَ، وأخبرَه عبد الله بن كَثير أنه قَرأ على مُجاهِد فأمرَه بذلك، وأخبرَه مُجاهِد أَنَّ ابنَ عباس أمرَه بذلك، وأخبرَه ابن عباس أَنَّ أَبيَّ بن كعب أمرَه بذلك، وأخبرَه أُبيُّ بن كعب أنَّ النبي ﷺ أمرَه بذلك (1)
هذا حديث صحيحُ الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5325 - البزي قد تكلم فيه
هذا حديث صحيحُ الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5325 - البزي قد تكلم فيه
حافظ طلحہ بابر
عکرمہ بن سلیمان بیان کرتے ہیں کہ میں نے اسماعیل بن عبد اللہ بن قسطنطین کے پاس قرآن پڑھا، جب میں سورت ﴿وَالضُّحَى﴾ پر پہنچا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: ہر سورت کے ختم پر تکبیر (اللہ اکبر) کہا کرو یہاں تک کہ تم قرآن مکمل کر لو، کیونکہ میں نے عبد اللہ بن کثیر کے پاس قرآن پڑھا تھا، جب میں سورت ﴿وَالضُّحَى﴾ پر پہنچا تو انہوں نے قرآن مکمل ہونے تک تکبیر کہی، اور عبد اللہ بن کثیر نے بتایا کہ انہوں نے مجاہد کے پاس پڑھا تھا تو انہوں نے انہیں یہی حکم دیا تھا، مجاہد نے بتایا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں ایسا ہی کرنے کا حکم دیا تھا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے انہیں اس کا حکم دیا تھا اور ابی بن کعب نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں اس بات کا حکم دیا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔