المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
مَا اسْتَبَانَ لَكُمْ فَاعْمَلُوا بِهِ ، وَمَا أَشْكَلَ عَلَيْكُمْ ، فَكِلُوهُ إِلَى عَالِمِهِ باب: جو بات تم پر واضح ہو اس پر عمل کرو، اور جو تم پر مشتبہ ہو اسے اس کے عالم کی طرف لوٹا دو
حدیث نمبر: 5406
حدَّثنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدَّثنا الحسن بن مُكرَم، حدَّثنا يزيد بن هارون، عن محمد بن إسحاق: أنَّ رسول الله ﷺ آخَى بين أصحابِه، فآخَى بينَ أُبي بن كعب وسعيد بن زيد بن عمرو بن نُفَيل (1).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن اسحاق سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا، چنانچہ آپ ﷺ نے سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ (مواخاۃ) قائم فرمایا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) وهو في "السيرة النبوية" لابن هشام 1/ 505 لكن تحرَّف في المطبوع منه اسمُ سعيد بن زيد إلى: سعد بن زيد.
حوالہ / مصدر: (1) یہ ابن ہشام کی "السیرۃ النبویۃ" (1/ 505) میں ہے، لیکن اس کے مطبوعہ نسخے میں "سعيد بن زید" کا نام تحریف ہو کر "سعد بن زید" ہو گیا ہے۔
وخالفه الواقدي كما في "طبقات ابن سعد" 3/ 462 فروى بعدة أسانيد له: أنَّ رسول الله ﷺ آخى بين أُبي بن كعب وطلحة بن عُبيد الله. فالله أعلم.
فنی نکتہ / علّت: واقدی نے اس کی مخالفت کی ہے (جیسا کہ طبقات ابن سعد 3/ 462 میں ہے)، انہوں نے اپنی کئی اسناد سے روایت کیا ہے کہ: "رسول اللہ ﷺ نے ابی بن کعب اور طلحہ بن عبید اللہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا۔" واللہ اعلم۔
حوالہ / مصدر: (1) یہ ابن ہشام کی "السیرۃ النبویۃ" (1/ 505) میں ہے، لیکن اس کے مطبوعہ نسخے میں "سعيد بن زید" کا نام تحریف ہو کر "سعد بن زید" ہو گیا ہے۔
وخالفه الواقدي كما في "طبقات ابن سعد" 3/ 462 فروى بعدة أسانيد له: أنَّ رسول الله ﷺ آخى بين أُبي بن كعب وطلحة بن عُبيد الله. فالله أعلم.
فنی نکتہ / علّت: واقدی نے اس کی مخالفت کی ہے (جیسا کہ طبقات ابن سعد 3/ 462 میں ہے)، انہوں نے اپنی کئی اسناد سے روایت کیا ہے کہ: "رسول اللہ ﷺ نے ابی بن کعب اور طلحہ بن عبید اللہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا۔" واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5406 سے ماخوذ ہے۔