کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سن اٹھارہ ہجری میں شام میں طاعون پھیلا
قال ابن عُمر: حدثني إسحاق بن حازم، عن عبد الله بن مِقْسَم، عن جابر، قال: لَقِيَ رسولُ الله ﷺ أسامةَ بنَ زيد ورسولُ الله ﷺ على راحلتِه، فأجلسَه بين يديه، وسهيلُ بنُ عَمرو مَجنُوب (1)، يَداهُ إلى عُنُقه (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار تھے کہ آپ ﷺ کی ملاقات اسامہ بن زید سے ہوئی تو آپ ﷺ نے انہیں اپنے آگے بٹھا لیا، جبکہ سہیل بن عمرو قیدی کی حیثیت سے پہلو میں (لائے جا رہے) تھے اور ان کے ہاتھ ان کی گردن سے بندھے ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5308M
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5308M] [ترقيم الشركة 5261/1]
قال سهيل (3): ولما دخلَ رسولُ الله ﷺ مكةَ اقتَحمْتُ بيتي، وأغلقتُ علَيَّ بابي، وأرسلتُ إلى ابني عبدِ الله: أنِ اطلُبْ لي جِوارًا من مُحمّدٍ، فإني لا آمَنُ أن أُقتَلَ، فذهَبَ عبدُ الله إلى رسولِ الله ﷺ، فقال: يا رسول الله، أبي تُؤمِّنُه؟ قال: "نعم، هو آمِنٌ بأمانِ الله، فليَظْهَرْ"، ثم قال رسول الله ﷺ لمن حولَه: "مَن لَقِيَ سُهِيلَ بنَ عمرو فلا يَشْتدُّ إليه، فلَعَمْري إِنَّ سهيلًا له عقْلٌ وشَرَف، وما مِثلُ سُهيلٍ جَهِلَ الإسلامَ"، فخرج عبدُ الله بن سُهيل إلى أبيه، فخبَّره بمَقالةِ رسول الله ﷺ، فقال سُهيل: كان والله بَرًّا صغيرًا وكبيرًا، وكان سهيلٌ يُقبِل ويُدبِر آمِنًا، وخَرَج مع رسولِ الله ﷺ وهو على شِرْكِهِ حتى أسلمَ بالجِعْرانةِ، فأعطاهُ رسولُ الله ﷺ من غنائم حُنَينٍ مئةً من الإبل" (4). وقد روى سهيلُ بن عَمرو عن رسول الله ﷺ.
حافظ طلحہ بابر
سہیل بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں (فتح کے دن) داخل ہوئے تو میں اپنے گھر میں گھس گیا اور دروازہ بند کر لیا، پھر میں نے اپنے بیٹے عبداللہ کو پیغام بھیجا کہ وہ میرے لیے محمد (ﷺ) سے پناہ مانگیں کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ میں قتل کر دیا جاؤں گا، چنانچہ عبداللہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ میرے والد کو امان دیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، وہ اللہ کی امان کے ساتھ محفوظ ہیں، لہٰذا وہ (باہر) ظاہر ہو جائیں“، پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے گرد موجود لوگوں سے فرمایا: ”جس کسی کی ملاقات سہیل بن عمرو سے ہو وہ اس کے ساتھ سختی نہ کرے، میری عمر کی قسم! سہیل صاحبِ عقل اور شریف انسان ہے، اور سہیل جیسا شخص اسلام کی حقیقت سے ناواقف نہیں رہ سکتا“، پھر عبداللہ بن سہیل اپنے والد کے پاس گئے اور انہیں رسول اللہ ﷺ کے ارشاد سے آگاہ کیا، تو سہیل کہنے لگے: اللہ کی قسم! وہ (محمد ﷺ) بچپن میں بھی اور بڑے ہو کر بھی سراپا نیکی ہی رہے ہیں، اس کے بعد سہیل امن و سکون کے ساتھ آتے جاتے تھے، وہ حالتِ شرک ہی میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (غزوہ حنین کے لیے) نکلے یہاں تک کہ مقامِ جعرانہ پر اسلام لے آئے، پھر رسول اللہ ﷺ نے انہیں حنین کے مالِ غنیمت میں سے سو اونٹ عطا فرمائے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5309
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5309] [ترقيم الشركة 5261/2]
حدثنا إسحاق بن محمد الهاشمي بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم، حدثنا خالد بن مخلد القَطَواني، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن أبيه، عن زياد بن مِينْاء، عن أبي سعيد بن فَضَالة الأنصاري - وكانت له صُحْبة - قال: اصطحبتُ أنا وسهيلُ بنُ عَمرو لياليَ أغزانا (1) أبو بكر، فسمعتُ سهيلًا يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "مُقامُ أحدِكم في سبيلِ الله ساعةً، خيرٌ له من عَمَلِهِ عُمَرَه في أهلِه". قال سهيلٌ: وأنا أرابطُ حتى أموتَ، ولا أرجعُ إلى مكة أبدًا. فبقي بها مرابطًا بالشام إلى أن مات بها في طاعون عَمَواس، وإنما وقع هذا الطاعون بالشام سنة ثمان عشرةَ من الهجرة (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5226 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
ابو سعید بن فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں جہاد کے لیے بھیجا تو میں اور سہیل بن عمرو کئی راتیں ساتھ رہے، میں نے سہیل کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”تمہارا اللہ کی راہ میں ایک گھڑی قیام کرنا، تمہارے گھر والوں میں رہ کر پوری زندگی کے عمل سے بہتر ہے“، سہیل نے (یہ سن کر) کہا: اب میں مرتے دم تک سرحدوں کی حفاظت (رِباط) ہی کرتا رہوں گا اور کبھی مکہ واپس نہیں جاؤں گا، چنانچہ وہ شام میں سرحدوں کی پہرے داری کرتے رہے یہاں تک کہ سنہ 18 ہجری میں طاعونِ عمواس کے دوران وہیں ان کی وفات ہوئی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5310
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسنٌ من أجل زياد بن ميناء
تخریج حدیث «إسناده حسنٌ من أجل زياد بن ميناء، فقد روى عنه ثقتان وذكره ابن حبان في "الثقات" وصحَّح له حديثًا، وقال علي بن المديني عن هذا الإسناد في حديث له آخر: إسنادٌ صالح يقبلُه القلبُ. نقله عنه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 66/ 266، وشيخ المصنف صدوق إن شاء الله، وهو متابعٌ.» [ترقيم الرساله 5310] [ترقيم الشركة 5262] [ترقيم العلميه 5226]
أخبرنا الحسن بن حَليم المَروَزِي، أخبرنا محمد بن عمرو الفَزَاري، حدثنا عَبْدانُ بن عثمان، أخبرنا عبد الله بن المبارك، أخبرنا جرير بن حازم، سمعتُ الحسنَ يحدِّث يقول: حَضَر أناسٌ بابَ عُمر، وفيهم سهيلُ بن عَمرو وأبو سفيان بن حرب والشُّيوخ من قُريش، فخرج آذِنُه، فجعل يأْذَنُ لأهلِ بدرٍ كصُهَيْبٍ وبلالٍ وأهل بدرٍ، قال: وكان والله بدريًا وكان يُحِبُّهم، وكان قد أوصى به (3)، فقال أبو سفيان: ما رأيتُ كاليومِ قطُّ، إنه يُؤذَنُ لهذه العَبيد ونحن جلوسٌ لا يُلتَفَتُ إلينا، فقال سهيلُ بن عَمرو - ويلٌ له من رجل ما كان أعقَلَه! (1) -: أيها القومُ، إني واللهِ قد أَرى الذي في وُجُوهِكم، فإن كنتم غِضابًا فاغضَبُوا على أنفُسِكم، دُعِيَ القومُ ودُعِيتُم، فأسرَعُوا وأبطأتُم، أما والله لَمَا سَبَقُوكم به من الفَضْل فيما [لا] (2) تَرَون، أشدُّ عليكم فَوْتًا من بابِكُم هذا الذي تُنافِسُون عليه (3)، ثم قال: إنَّ هؤلاء (4) القومَ قد سَبَقُوكم بما تَرَون، ولا سبيلَ لكم والله إلى ما سَبَقُوكم إليه، فانظُروا هذا الجهادَ فَالزَمُوه، عسى اللهُ ﷿ أن يَرزُقَكم الجهادَ والشَّهادةَ، ثم نَفَضَ ثوبَه، فقام فلَحِقَ بالشام. قال الحسنُ: فصَدَقَ واللهِ (5)، لا يجعلُ اللهُ عبدًا أسرعَ إليه كعبدٍ أبطأَ عنه (6).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5227 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حسن بصری سے روایت ہے کہ کچھ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر حاضر ہوئے جن میں سہیل بن عمرو، ابوسفیان بن حرب اور قریش کے دیگر شیوخ شامل تھے، اتنے میں ان کا دربان نکلا اور اس نے اہل بدر مثلاً صہیب اور بلال رضی اللہ عنہما کو اندر آنے کی اجازت دینا شروع کی، راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! عمر رضی اللہ عنہ اہل بدر سے بہت محبت کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے بھی ان کے بارے میں وصیت فرمائی تھی، یہ دیکھ کر ابوسفیان کہنے لگے: میں نے آج جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا، ان غلاموں کو اجازت دی جا رہی ہے اور ہم یہاں بیٹھے ہیں ہماری طرف کوئی توجہ بھی نہیں دی جا رہی، تب سہیل بن عمرو نے - اللہ ان پر رحم کرے وہ کتنے ہی عقل مند شخص تھے! - فرمایا: ”اے لوگو! اللہ کی قسم میں تمہارے چہروں پر جو تاثرات دیکھ رہا ہوں (وہ میں سمجھ رہا ہوں)، اگر تمہیں غصہ آ رہا ہے تو اپنے آپ پر غصہ کرو، ان لوگوں کو بھی (اسلام کی) دعوت دی گئی تھی اور تمہیں بھی دی گئی تھی، مگر انہوں نے دوڑ کر اسے قبول کیا اور تم نے دیر کر دی، اللہ کی قسم! فضل و کمال میں ان کا تم سے آگے نکل جانا (جسے تم آج دیکھ نہیں پا رہے) تمہارے لیے اس دروازے سے محروم رہ جانے سے کہیں زیادہ دکھ کی بات ہونی چاہیے جس پر تم آج ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہو“، پھر انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! یہ لوگ جس فضیلت میں تم سے سبقت لے گئے اس تک پہنچنے کا اب کوئی راستہ نہیں، لہذا اب اس جہاد کو دیکھو اور اسے لازم پکڑ لو، امید ہے کہ اللہ عزوجل تمہیں جہاد اور شہادت نصیب فرمائے گا“، پھر انہوں نے اپنا کپڑا جھاڑا اور کھڑے ہو کر شام چلے گئے۔ حسن بصری کہتے ہیں: اللہ کی قسم! انہوں نے سچ کہا، اللہ اس بندے کو جو اس کی طرف دوڑ کر آئے اس کے برابر نہیں کر سکتا جو اس کے معاملے میں سستی دکھائے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5311
درجۂ حدیث محدثین: خبر حسنٌ
تخریج حدیث «خبر حسنٌ، وهذا السند رجاله ثقات لكنه مرسلٌ، لأنَّ الحسن وهو ابن أبي الحسن البصري» [ترقيم الرساله 5311] [ترقيم الشركة 5263] [ترقيم العلميه 5227]
حدثني علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عمر، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن الحسن بن محمد، قال: قال عمرُ للنبيِّ ﷺ: يا رسولَ الله، دَعْني أنزعْ ثَنيَّتي سهيلِ بن عمرو، فلا يقومُ خطيبًا في قومه أبدًا، فقال: "دَعْها، فلعلّها أن تَسُرَّك يومًا". قال سفيانُ: فلما مات النبيُّ ﷺ نَفَرَ منه أهلُ مكة، فقام سهيلُ بنُ عَمرو عند الكعبة، فقال: مَن كان محمدٌ ﷺ إلهَهُ، فإنَّ محمدًا قد ماتَ، واللهُ حيّ لا يموتُ (1). ذكرُ بلال بن رَبَاح مُؤذِّن رسولِ الله ﷺ، وقد روى عنه أبو بكر وعمرُ ﵄.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5228 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
حسن بن محمد سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں کہ میں سہیل بن عمرو کے سامنے کے دو دانت نکال دوں تاکہ وہ اپنی قوم میں کبھی (آپ کے خلاف) خطیب بن کر کھڑا نہ ہو سکے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے رہنے دو، شاید ایک دن اس کا کوئی عمل تمہیں خوش کر دے۔“ سفیان کہتے ہیں: پھر جب نبی کریم ﷺ کا وصال ہوا اور اہل مکہ (اسلام سے پھرنے کی طرف) مائل ہوئے تو سہیل بن عمرو کعبہ کے پاس کھڑے ہوئے اور (ایک موثر خطبہ دیتے ہوئے) فرمایا: ”جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺ کا وصال ہو چکا ہے، اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ اللہ زندہ ہے، اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔“
بلال بن رباح رضی اللہ عنہ (رسول اللہ ﷺ کے مؤذن) کے مناقب کا ذکر، جن سے سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کی ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5312
درجۂ حدیث محدثین: خبر حسن
تخریج حدیث «خبر حسن، وهذا سند رجاله ثقات غير أنه مرسلٌ، غير أنه روي من وجوه عدة، فهو حسنٌ بمجموعها إن شاء الله. سفيان هو ابن عيينة، وعمرو: هو ابن دينار. والحسن بن محمد: هو ابن علي بن أبي طالب.» [ترقيم الرساله 5312] [ترقيم الشركة 5264] [ترقيم العلميه 5228]