أخبرني أحمد بن يعقوب، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خَلِيفة بن خَيّاط، قال: سُهيل بن عَمرو بن عبد شَمْس بن نَصْر بن مالك بن حِسْل بن عامر بن لُؤي بن غالب، وقال: سُهيل بن عمرو يُكنى أبا يزيد (1).
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط کہتے ہیں کہ سہیل بن عمرو بن عبد شمس بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لؤی بن غالب (ان کا نسب ہے) اور ان کی کنیت ابو یزید تھی۔
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن، حدثنا الحُسين، حدثنا محمد بن عمر، قال: كان سهيلُ بن عَمرو من أشراف قريش ورؤسائهم، وشَهِدَ بدرًا مع المشركين، فأسرَه مالكُ بن الدُّخشُم، فقال: أسرْتُ سُهيلًا فلم أبتَغي … به غَيرَه من جميع مع الأُمَمْ وخِنْدِفُ تَعلَمُ أن الفَتى … سُهيلًا فَتَاها إذا ما انتَظَمْ ضربتُ بذِي الشَّفْرِ حتى انْحَنى … وأكرهتُ نفسي على ذِي النِّعَمْ (2) قال: ومن ولدِه عبدُ الله، وهو من المهاجرين الأوّلين، وشهد بدرًا، وأبو جَنْدَل وقد صَحِبَ النبيَّ ﷺ، وعتبةُ الأصغَر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5225 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5225 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر کہتے ہیں کہ سہیل بن عمرو قریش کے اشراف اور ان کے سرداروں میں سے تھے، انہوں نے مشرکین کی طرف سے غزوہ بدر میں شرکت کی اور مالک بن الدخشم نے انہیں قیدی بنایا، اس پر انہوں نے یہ اشعار کہے: ”میں نے سہیل کو قید کیا اور میں اس کے بدلے تمام اقوام کے بدلے میں بھی کسی اور کو لینے کا خواہش مند نہیں ہوں، اور قبیلہ خندف جانتا ہے کہ جوانمرد سہیل ہی ان کا (اصلی) جوان ہے جب معاملات منظم ہوں، میں نے ذو الشفر (تلوار) سے ایسی ضرب لگائی کہ وہ مڑ گئی اور میں نے اپنی جان کو اس انعام یافتہ شخص پر (قابو پانے کے لیے) مجبور کیا“۔ سہیل کی اولاد میں عبداللہ ہیں جو سابقین اولین مہاجرین میں سے ہیں اور غزوہ بدر میں شریک ہوئے، اور ابو جندل ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی صحبت پائی، اور عتبہ اصغر ہیں۔