المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
وَقَعَ الطَّاعُونُ بِالشَّامِ سَنَةَ ثَمَانِ عَشْرَةَ باب: سن اٹھارہ ہجری میں شام میں طاعون پھیلا
حدیث نمبر: 5308M
قال ابن عُمر: حدثني إسحاق بن حازم، عن عبد الله بن مِقْسَم، عن جابر، قال: لَقِيَ رسولُ الله ﷺ أسامةَ بنَ زيد ورسولُ الله ﷺ على راحلتِه، فأجلسَه بين يديه، وسهيلُ بنُ عَمرو مَجنُوب (1)، يَداهُ إلى عُنُقه (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار تھے کہ آپ ﷺ کی ملاقات اسامہ بن زید سے ہوئی تو آپ ﷺ نے انہیں اپنے آگے بٹھا لیا، جبکہ سہیل بن عمرو قیدی کی حیثیت سے پہلو میں (لائے جا رہے) تھے اور ان کے ہاتھ ان کی گردن سے بندھے ہوئے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تصحف في (ب) إلى: مجبوب، وإنما هو مَجنُوب من: جَنّب الفرسَ والأسيرَ يَجنبُه جَنَبًا: إذا قاده إلى جَنْبِهِ.
نوٹ / توضیح: (1) نسخہ (ب) میں یہ لفظ تصحیف ہو کر "مجبوب" ہو گیا، حالانکہ یہ "مَجنُوب" ہے جو "جَنَبَ" سے ماخوذ ہے (یعنی: اس نے گھوڑے یا قیدی کو اپنے پہلو میں چلایا)۔
نوٹ / توضیح: (1) نسخہ (ب) میں یہ لفظ تصحیف ہو کر "مجبوب" ہو گیا، حالانکہ یہ "مَجنُوب" ہے جو "جَنَبَ" سے ماخوذ ہے (یعنی: اس نے گھوڑے یا قیدی کو اپنے پہلو میں چلایا)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5308 سے ماخوذ ہے۔