کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: بے شک سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اللہ کے لیے پوری طرح فرمانبردار ایک امت تھے
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل ابن عُلَيّة، عن منصور بن عبد الرحمن، عن الشعبي، حدثني فَرْوة بن نَوفَل الأشجَعي، قال: قال ابن مسعود: إنَّ معاذًا كان أُمَّةً قانتًا لله حنيفًا، فقلتُ في نفسي: غَلِط أبو عبد الرحمن، إنما قال الله ﷿: ﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ﴾ الآية [النحل: 120]، قال: أتدري ما الأُمَّة، وما القانتُ؟ فقلت: الله أعلمُ، قال: الأُمَّةُ الذي يُعلِّمُ الخَيرَ، والقانتُ المُطِيعُ الله ولرسوله ﷺ، وكذلك كان معاذُ بنُ جَبَل، كان مُعلِّمَ الخيرِ، وكان مُطيعًا الله ولرسوله ﷺ (1). هكذا رواه شعبةُ عن فِراسٍ عن الشَّعبي عن مَسرُوق عن عبد الله، وأسندَه في آخره:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5188 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5188 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
فروہ بن نوفل اشجعی کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بیشک معاذ ایک (پوری) امت تھے جو اللہ کے فرمانبردار اور یکسو تھے“، میں نے اپنے دل میں کہا: شاید ابو عبدالرحمن (ابن مسعود) سے چوک ہوئی ہے، اللہ عزوجل نے تو (قرآن میں) فرمایا ہے: ﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ﴾ [سورة النحل: 120] ”بیشک ابراہیم ایک امت تھے اللہ کے فرمانبردار“، انہوں نے (ابن مسعود) پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ امت اور قانت کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ بہتر جانتا ہے، انہوں نے فرمایا: ”امت“ وہ ہے جو خیر کی تعلیم دے، اور ”قانت“ وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فرمانبردار ہو، اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایسے ہی تھے، وہ خیر کے معلم تھے اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے اطاعت گزار تھے۔
أخبرَنَاه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة، سمعت فراسًا يُحدِّث عن الشَّعْبي، عن مسروق، عن عبد الله، قال: إنَّ معاذًا كان أمةً قانتًا، قال: فقال رجلٌ من أشْجَعَ يُقال له: فَرْوةُ بن نَوفَل: نسيَ، إنما ذاك إبراهيمُ ﵇، فقال عبدُ الله: مَن نَسِي؟ إنا كنا نُشبِّهُه بإبراهيمَ، وسُئل عبدُ الله عن الأمّةِ، فقال: مُعلِّمُ الخَيرِ، والقانتُ: المُطِيعُ الله ولرسوله ﷺ (1). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5189 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5189 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
مسروق، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”بیشک معاذ ایک (پوری) امت اور فرمانبردار تھے“، راوی کہتے ہیں: اشجع قبیلے کے ایک شخص جن کا نام فروہ بن نوفل تھا، کہنے لگے: وہ بھول گئے، یہ (آیت) تو ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ہے، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کون بھول گیا؟ ہم تو انہیں (معاذ کو) ابراہیم علیہ السلام سے تشبیہ دیا کرتے تھے“، پھر عبداللہ سے امت کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”خیر کا معلم“، اور قانت سے مراد ”اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فرمانبردار“ ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
فحدَّثني أبو القاسم الحسن بن محمد السَّكُوني بالكوفة، حدثنا عُبيد بن غَنّام بن حَفْص بن غياث النَّخَعي، حدثني أبي، عن أبيه، عن الأعمش، عن أبي وائل، عن عبد الله قال: لما قُبضَ النبيُّ ﷺ واستَخْلَفوا أبا بكرٍ وكان رسولُ الله ﷺ بَعَثَ معاذًا إلى اليمن، فاستَعملَ أبو بكر عُمرَ على المَوسِم، فلقيَ مُعاذًا بمكة ومعه رَقِيقٌ، فقال: ما هؤلاء؟! فقال: هؤلاء أُهدوا لي، وهؤلاء لأبي بكر، فقال له عُمر: إني أرى لك أن تأتيَ بهم أبا بكرٍ، قال: فلقيَه مِن الغَدِ، فقال: يا ابنَ الخَطَّابِ، لقد رأيتُني البارحةَ وأنا أنْزُو إلى النارِ، وأنتَ آخِذُ بحُجْزَتي، وما أُراني إِلَّا مُطِيعَك، قال: فأَتى بهم أبا بكر، فقال: هؤلاء أُهدوا لي وهؤلاء لك، قال: فإنا قد سَلَّمنا لك هديتَّك، فخرج معاذٌ إلى الصلاة، فإذا هم يُصلُّون خَلْفَه، فقال معاذ: لمن تُصلُّون؟ قالوا: لله ﷿، فقال: فأنتُم له، فأعْتَقَهم (2). صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5190 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5190 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کا وصال ہو گیا اور لوگوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کر لیا تو اس وقت معاذ رضی اللہ عنہ یمن میں تھے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے وہاں (گورنر بنا کر) بھیجا تھا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو حج کے موقع پر امیر مقرر کیا تو ان کی ملاقات مکہ میں معاذ رضی اللہ عنہ سے ہوئی جن کے ساتھ کچھ غلام تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”یہ کون ہیں؟“ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ کچھ مجھے ہدیہ ملے ہیں اور کچھ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے ہیں“، عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”میری رائے یہ ہے کہ تم یہ سب لے کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ (اور ان کے سپرد کر دو)“، اگلے دن معاذ رضی اللہ عنہ ان سے ملے اور کہا: ”اے ابن خطاب! میں نے گزشتہ رات خواب دیکھا کہ میں آگ میں گر رہا ہوں اور آپ نے مجھے کمر سے پکڑ رکھا ہے، اور میرا خیال ہے کہ میں آپ کی اطاعت ہی کروں گا“، چنانچہ وہ ان غلاموں کو لے کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ”یہ مجھے ہدیہ ملے ہیں اور یہ آپ کے لیے ہیں“، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم نے تمہارا ہدیہ تمہارے لیے ہی رہنے دیا“، پھر معاذ رضی اللہ عنہ نماز کے لیے نکلے تو دیکھا کہ وہ غلام ان کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں، معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”تم کس کے لیے نماز پڑھ رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ عزوجل کے لیے“، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پھر تم اللہ ہی کے لیے (آزاد) ہو“، اور انہوں نے انہیں آزاد کر دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا الحسن بن سهل المُجوِّز، حدثنا أبو عاصم، حدثنا موسى بن عُلَيّ بن رَباح اللَّخْمي، عن أبيه: أنَّ عُمر بن الخطاب خَطَب الناسَ، فقال: من أراد أن يسألَ عن القرآنِ فليأتِ أبيَّ بنَ كعب، ومن أراد أن يَسألَ عن الحلال والحرام فليأتِ معاذ بنَ جَبَل، ومن أراد أن يَسألَ عن الفَرائض فليأتِ زيدَ بن ثابتٍ، ومن أراد أن يَسألَ عن المالِ فليأتِني، فإني له خَازنٌ (1). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5191 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5191 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”جو شخص قرآن کے بارے میں سوال کرنا چاہے وہ ابی بن کعب کے پاس جائے، اور جو حلال و حرام کے متعلق پوچھنا چاہے وہ معاذ بن جبل کے پاس جائے، اور جو وراثت کے فرائض کے بارے میں دریافت کرنا چاہے وہ زید بن ثابت کے پاس جائے، اور جسے مال کے بارے میں پوچھنا ہو وہ میرے پاس آئے کیونکہ میں اس کا خزانچی ہوں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الإمام، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا هشام بن يوسف، عن مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن أبيه، قال: كان معاذُ بنُ جَبَل شابًا حليمًا سَمْحًا من أفضل شبابِ قومِه، ولم يكن يُمسِكُ شيئًا، فلم يَزَل يَدّانُ حتى أغرقَ مالَه كلَّه في الدَّين، فأتى النبيَّ ﷺ، فكَلَّم غُرماءَه، فلو تَركُوا أحدًا من أجل أحدٍ، لَتَركُوا معاذًا من أجلِ رسول الله ﷺ، فباعَ لهم رسولُ الله ﷺ مالَه، حتى قامَ معاذٌ بغيرِ شيء (2). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5192 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5192 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایک بردبار اور سخی نوجوان تھے اور وہ اپنی قوم کے بہترین جوانوں میں سے تھے، وہ اپنے پاس کچھ بچا کر نہیں رکھتے تھے یہاں تک کہ وہ مسلسل قرض لیتے رہے اور قرض کے بوجھ نے ان کے تمام مال کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان کے قرض خواہوں سے بات کی، اگر وہ کسی کی خاطر اپنا حق چھوڑنے والے ہوتے تو رسول اللہ ﷺ کی خاطر معاذ کا قرض چھوڑ دیتے، لیکن (جب انہوں نے ایسا نہ کیا تو) رسول اللہ ﷺ نے ان کا سارا مال بیچ کر ان کے قرض کی ادائیگی کی یہاں تک کہ معاذ کے پاس کچھ باقی نہ رہا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔