کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور ان کے اہلِ خانہ کی وفات جمعہ سے جمعہ تک کے عرصے میں ہوئی
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عثمان بن عطاء، عن أبيه: أنَّ مُعاذَ بن جَبَل قامَ في الجيش الذي كان عليه حينَ وقع الوَباءُ، فقال: يا أيها الناس، هذه رحمةُ ربِّكم، ودعوةُ نَبيِّكم، ووفاةُ (1) الصالحين قبلكم، ثم قال معاذ وهو يَخطُب: اللهمَّ أدخِلْ على آل مُعَاذٍ نَصيبَهم الأوفَى من هذه الرَّحمة، فبَيْنا هو كذلك إذ أُتي، فقيل: طُعِن ابنُك عبدُ الرحمن، فلما أن رأى أباه معاذًا قال: يقول عبد الرحمن: يا أبَهْ ﴿الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ﴾، قال: يقول معاذٌ: ﴿سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ﴾، فماتَ من الجُمعةِ إلى الجُمعةِ آلُ معاذٍ كلُّهم، ثم كان هو آخرَهم (2)
حافظ طلحہ بابر
عثمان بن عطا اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب (طاعونِ عمواس کی) وبا پھیلی تو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اس لشکر میں (خطبے کے لیے) کھڑے ہوئے جس کے وہ امیر تھے اور فرمایا: ”اے لوگو! یہ تمہارے رب کی رحمت، تمہارے نبی کی پکار اور تم سے پہلے صالحین کی وفات (کا طریقہ) ہے“، پھر معاذ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے دعا کی: ”اے اللہ! معاذ کی آل کو اس رحمت میں سے بھرپور حصہ عطا فرما“، ابھی وہ اسی حال میں تھے کہ ایک شخص آیا اور بتایا: آپ کا بیٹا عبدالرحمن طاعون زدہ ہو گیا ہے، جب اس نے اپنے والد معاذ کو دیکھا تو عبدالرحمن کہنے لگا: اے اباجان! ﴿الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ﴾ [سورة البقرة: 147] ”حق آپ کے رب کی طرف سے ہے، پس آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں“، معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ﴿سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ﴾ [سورة الصافات: 102] ”ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے“، چنانچہ جمعہ سے جمعہ تک آلِ معاذ کے تمام افراد فوت ہو گئے اور سب سے آخر میں معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی۔
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنْبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا موسى بن عُلَيّ بن رَباح اللَّخْمي، عن أبيه: أَنَّ عمر بن الخطاب خَطَبَ الناسَ، فقال: مَن أراد أن يَسألَ عن القُرآن فليأت أُبَيَّ بن كعب، ومن أراد أن يَسألَ عن الحلال والحرام فليأت مُعاذَ بنَ جَبَلٍ، ومن أراد أن يَسأَلَ عن المال فليأتِني، فإنَّ الله تعالى جعلني خازنًا (1).
حافظ طلحہ بابر
موسیٰ بن علی بن رباح لخمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”جو شخص قرآن کے بارے میں سوال کرنا چاہے وہ ابی بن کعب کے پاس جائے، اور جو حلال و حرام کے متعلق پوچھنا چاہے وہ معاذ بن جبل کے پاس جائے، اور جسے مال کے بارے میں پوچھنا ہو وہ میرے پاس آئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خزانچی بنایا ہے۔“