حدیث نمبر: 5270
أخبرَنَاه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة، سمعت فراسًا يُحدِّث عن الشَّعْبي، عن مسروق، عن عبد الله، قال: إنَّ معاذًا كان أمةً قانتًا، قال: فقال رجلٌ من أشْجَعَ يُقال له: فَرْوةُ بن نَوفَل: نسيَ، إنما ذاك إبراهيمُ ﵇، فقال عبدُ الله: مَن نَسِي؟ إنا كنا نُشبِّهُه بإبراهيمَ، وسُئل عبدُ الله عن الأمّةِ، فقال: مُعلِّمُ الخَيرِ، والقانتُ: المُطِيعُ الله ولرسوله ﷺ (1). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5189 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

مسروق، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”بیشک معاذ ایک (پوری) امت اور فرمانبردار تھے“، راوی کہتے ہیں: اشجع قبیلے کے ایک شخص جن کا نام فروہ بن نوفل تھا، کہنے لگے: وہ بھول گئے، یہ (آیت) تو ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ہے، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کون بھول گیا؟ ہم تو انہیں (معاذ کو) ابراہیم علیہ السلام سے تشبیہ دیا کرتے تھے“، پھر عبداللہ سے امت کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”خیر کا معلم“، اور قانت سے مراد ”اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فرمانبردار“ ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5270
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،فراس: هو ابن يحيى الهَمْداني المُكتِب، ومَسْروق: هو ابن الأجْدَع.» [ترقيم الرساله 5270] [ترقيم الشركة 5225] [ترقيم العلميه 5189]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. فراس: هو ابن يحيى الهَمْداني المُكتِب، ومَسْروق: هو ابن الأجْدَع.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: "فراس" سے مراد: فراس بن یحییٰ الہمدانی المکتب ہیں، اور "مسروق" سے مراد: مسروق بن الاجدع ہیں۔
وأخرجه مُسدَّد في "مسنده" كما في "المطالب العالية" لابن حجر (3647)، وابن سعد 2/ 301، والطبري في "تفسيره" 14/ 191، والطبراني (9944) وأبو الحُسين بن المطهَّر في "حديث شعبة بن الحجاج" (159)، وابنُ عساكر 58/ 420 من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے مسدّد نے اپنی "مسند" میں (جیسا کہ ابن حجر کی "المطالب العالیہ" 3647 میں ہے)، ابن سعد (2/ 301)، طبری نے اپنی تفسیر (14/ 191)، طبرانی (9944)، ابو الحسین بن المطہر نے "حدیث شعبہ بن الحجاج" (159) اور ابن عساکر (58/ 420) نے شعبہ سے متعدد طرق کے ساتھ اسی سند سے تخریج کیا ہے۔
وقد تقدَّم عند المصنف برقم (3407) من طريق سفيان الثوري عن فراس.
حوالہ / مصدر: یہ روایت مصنف (حاکم) کے ہاں پہلے نمبر (3407) کے تحت سفیان ثوری کے طریق سے گزر چکی ہے جو فراس سے روایت کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5270 سے ماخوذ ہے۔