حدیث نمبر: 5273
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الإمام، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا هشام بن يوسف، عن مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن أبيه، قال: كان معاذُ بنُ جَبَل شابًا حليمًا سَمْحًا من أفضل شبابِ قومِه، ولم يكن يُمسِكُ شيئًا، فلم يَزَل يَدّانُ حتى أغرقَ مالَه كلَّه في الدَّين، فأتى النبيَّ ﷺ، فكَلَّم غُرماءَه، فلو تَركُوا أحدًا من أجل أحدٍ، لَتَركُوا معاذًا من أجلِ رسول الله ﷺ، فباعَ لهم رسولُ الله ﷺ مالَه، حتى قامَ معاذٌ بغيرِ شيء (2). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5192 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایک بردبار اور سخی نوجوان تھے اور وہ اپنی قوم کے بہترین جوانوں میں سے تھے، وہ اپنے پاس کچھ بچا کر نہیں رکھتے تھے یہاں تک کہ وہ مسلسل قرض لیتے رہے اور قرض کے بوجھ نے ان کے تمام مال کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان کے قرض خواہوں سے بات کی، اگر وہ کسی کی خاطر اپنا حق چھوڑنے والے ہوتے تو رسول اللہ ﷺ کی خاطر معاذ کا قرض چھوڑ دیتے، لیکن (جب انہوں نے ایسا نہ کیا تو) رسول اللہ ﷺ نے ان کا سارا مال بیچ کر ان کے قرض کی ادائیگی کی یہاں تک کہ معاذ کے پاس کچھ باقی نہ رہا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5273
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «رجاله ثقات لكن الصحيح أنه مرسل كما تقدم بيانه برقم (2379).» [ترقيم الرساله 5273] [ترقيم الشركة 5228] [ترقيم العلميه 5192]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) رجاله ثقات لكن الصحيح أنه مرسل كما تقدم بيانه برقم (2379).
درجۂ حدیث: (2) اس کے راوی ثقہ ہیں لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ "مرسل" ہے جیسا کہ نمبر (2379) کے تحت بیان ہو چکا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5273 سے ماخوذ ہے۔