أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس: أنَّ أهل اليمن قَدِموا على رسول الله ﷺ فقالوا: ابعَثْ معنا رجلًا يُعلّمُنا القرآنَ، فأخذ بيدِ أبي عُبيدةَ فأرسله (2) معهم، وقال: "هذا أمينُ هذه الأُمّة" (3). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بذِكْر القُرآنِ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5163 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5163 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل یمن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ہمارے ساتھ کسی ایسے شخص کو بھیجیں جو ہمیں قرآن سکھائے، تو آپ ﷺ نے ابو عبیدہ کا ہاتھ تھاما اور انہیں ان کے ساتھ روانہ کیا اور فرمایا: ”یہ اس امت کے امین ہیں“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے قرآن کے تذکرے کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے قرآن کے تذکرے کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عمرو بن إسماعيل، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا زياد بن أيوب، حدثنا محمد بن فُضيل، حدثنا إسماعيل بن سُمَيع، عن مُسلم البَطين، عن أبي البَختَري، قال: قال أبو بكر الصِّدّيق لأبي عُبيدةَ: هلُمَّ (4) أُبايِعْك، فإني سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "إنك أَمِينُ هذه الأُمّة"، فقال أبو عُبيدة: كيف أُصلِّي بين يَدَي رجلٍ أمَرَه رسولُ الله ﷺ أن يَؤمَّنا حتى (1) قُبِضَ (2). صحيحٌ الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5164 - منقطع
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5164 - منقطع
حافظ طلحہ بابر
ابوبختری سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو عبیدہ سے فرمایا: آؤ میں تمہارے ہاتھ پر بیعت کروں، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بیشک تم اس امت کے امین ہو“، تو ابو عبیدہ نے جواب دیا: میں اس شخص کے آگے (امام بن کر) کیسے کھڑا ہو سکتا ہوں جسے رسول اللہ ﷺ نے اپنے وصال تک ہماری امامت کا حکم دیا تھا؟
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني محمد بن يعقوب المُقرئ، حدثنا محمد بن إسحاق بن إبراهيم، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا كَثير بن هشام، حدثنا جعفر بن بُرْقَان، حدثنا ثابت بن الحجَّاج، قال: بلغَني أنَّ عُمر بن الخطاب قال: لو أدركتُ أبا عُبيدة بن الجَرّاح، لاستَخلفْتُه وما شاورتُه، فإن سُئِلتُ عنه قلتُ: استَخلفْتُ أمينَ الله وأمينَ رسوله الله ﷺ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5165 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5165 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ثابت بن حجاج بیان کرتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں ابو عبیدہ بن جراح کو (اپنی وفات کے وقت) پاتا تو انہیں اپنا خلیفہ مقرر کرتا اور (کسی سے) مشورہ نہ کرتا، اور اگر مجھ سے ان کے بارے میں سوال کیا جاتا تو میں کہتا: میں نے اللہ کے امین اور اس کے رسول ﷺ کے امین کو خلیفہ بنایا ہے۔
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا زياد بن الخليل، حدثنا سهل بن بَكّار، حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم، عن سُهيل، عن أبيه، عن أبي هُريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "نِعمَ الرجلُ أبو بكر، نِعمَ الرجلُ عمرُ، نِعمَ الرجلُ أبو عُبيدة بن الجرَّاح، نِعمَ الرجلُ أُسَيدُ بن حُضَير، نِعمَ الرجلُ ثابتُ بنُ قَيس، نِعمَ الرجلُ مُعاذُ بن جَبَل، نِعمَ الرجلُ معاذُ بن عَمرو بن الجَمُوح" (1). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5166 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5166 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر کیا ہی خوب آدمی ہیں، عمر کیا ہی خوب آدمی ہیں، ابو عبیدہ بن جراح کیا ہی خوب آدمی ہیں، اسید بن حضیر کیا ہی خوب آدمی ہیں، ثابت بن قیس کیا ہی خوب آدمی ہیں، معاذ بن جبل کیا ہی خوب آدمی ہیں، اور معاذ بن عمرو بن جموح کیا ہی خوب آدمی ہیں“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا بَكر بن محمد الصَّيرفي، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا أبو رَبيعة فَهْد بن عوف، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس: أنَّ رسولَ الله ﷺ آخَى بين أبي طَلْحة وبين أبي عُبيدة (1). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب أحد الفُقهاء السِّتة من الصحابة معاذ بن جَبَل ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5167 - فهد بن عوف تركوه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5167 - فهد بن عوف تركوه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو طلحہ اور ابو عبیدہ (رضی اللہ عنہما) کے درمیان بھائی چارہ (مواخات) قائم فرمایا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔