کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی پر یہ نقش تھا: وفاداری نایاب ہے
حدثني أبو زُرعة الرازيّ، حدثنا عمرو بن إدريس الغَيْفي (1) بمصر، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن نُصير، حدثنا أبو يحيى الوَقّار، سمعتُ عبد الله بن وهب يقول: كان نقشُ خاتم أبي عبيدة بن الجرّاح: الوفاءُ عزيز (2).
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن وہب سے روایت ہے کہ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی کا نقش ”الوفاء عزیز“ (وفاداری نایاب ہے) تھا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن صِلةَ بن زُفَر، عن عبد الله بن مسعود، قال: جاء العاقِبُ والسَّيّد صاحبا نَجْرانَ إلى النبي ﷺ، يُريدان أن يُلاعِناهُ، فقال أحدُهما لصاحبِه: لا تَفعلْ، فو اللهِ لئن كان نبيًّا فلَعَنَنا لا نُفلِحُ (1) نحنُ ولا عَقِبُنا مِن بعدِنا، فقالا: بل نُعطِيك ما سألتَ، وابعثْ معنا رجلًا أمينًا حقَّ أمينٍ، قال: فاستشرفَ لها أصحابُ رسول الله ﷺ، فقال: "قُم يا أبا عُبيدةَ بن الجرَّاح"، فلما قَفَّى، قال رسول الله ﷺ: "هذا أَمينُ هذه الأُمّة" (2). قد اتفق الشيخان على إخراج هذا الحديث مختصرًا في "الصحيحين" من حَديث الثَّوري وشعبة عن أبي إسحاقَ عن صِلَة بن زُفَر عن حذيفة، وقد خالفَهما إسرائيلُ فقال: عن صِلَة عن عبد الله، وساق الحديثَ أتمَّ (1) ممّا عند الثَّوري وشعبة، فأخرجتُه لأنه على شرطهما صحيحٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5162 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5162 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
صلہ بن زفر، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نجران کے دو سردار عاقب اور سید نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، وہ آپ ﷺ سے مباہلہ کرنا چاہتے تھے، ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: ایسا نہ کرو، اللہ کی قسم! اگر یہ سچے نبی ہیں اور انہوں نے ہمیں بددعا دے دی تو نہ ہم کبھی فلاح پائیں گے اور نہ ہی ہمارے بعد ہماری اولاد، چنانچہ ان دونوں نے عرض کیا: (مباہلہ کے بجائے) ہم آپ کو وہ مال دے دیں گے جس کا آپ مطالبہ کریں گے، ہمارے ساتھ کسی ایسے شخص کو بھیجیں جو سچا امین ہو، راوی کہتے ہیں: یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اس سعادت کے حصول کی امید کرنے لگے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو عبیدہ بن جراح! کھڑے ہو جاؤ“، پھر جب وہ روانہ ہونے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اس امت کے امین ہیں“۔
شیخین نے اس حدیث کو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مختصر طور پر نقل کرنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ اسرائیل نے ثوری اور شعبہ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے صلہ کے واسطے سے ابن مسعود سے روایت کیا ہے اور اس کے الفاظ دیگر اسناد سے زیادہ مکمل ہیں، اس لیے میں نے اسے روایت کیا ہے کیونکہ یہ ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے۔
شیخین نے اس حدیث کو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مختصر طور پر نقل کرنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ اسرائیل نے ثوری اور شعبہ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے صلہ کے واسطے سے ابن مسعود سے روایت کیا ہے اور اس کے الفاظ دیگر اسناد سے زیادہ مکمل ہیں، اس لیے میں نے اسے روایت کیا ہے کیونکہ یہ ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے۔