کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي بمَرُو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حماد بن سَلَمة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ: "سيِّد فِتْيان الجنة أبو سفيان بن الحارث بن عبد المُطّلب". حَلَقه الحلّاق بمِنًى، وفي رأسِه ثُؤلُول فقَطَعَه فمات، فيُرَون أنه شَهيد (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5112 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5112 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہلِ جنت کے نوجوانوں کے سردار ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب ہیں۔“ منیٰ میں ایک حجام نے ان کے سر کی حجامت کی، وہاں سر میں ایک مسا (رسولی) تھا جو کٹ گیا اور اسی وجہ سے ان کی وفات ہو گئی، لہٰذا لوگ انہیں شہید سمجھتے ہیں۔
حدثنا علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب (2)، حدثنا ابن أبي عُمر، حدثنا سفيان، عن الزُّهْري، عن كَثير بن العباس بن عبد المطلب، عن أبيه، قال: شهدتُ مع رسولِ الله ﷺ يومَ حُنَين، فلقد رأيتُه وما معه إلَّا أنا وأبو سفيان بن الحارث بن عبد المُطّلب، وهو آخِذٌ بلِجَام بَغلةِ رسول الله ﷺ، وهو راكبُها، وأبو سفيان لا يألُو أن يُسرعَ نحوَ المشركين (3). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5113 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5113 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں غزوہ حنین میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ موجود تھا، میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے ساتھ میرے اور ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب کے علاوہ کوئی نہ تھا، میں آپ ﷺ کے خچر کی لگام تھامے ہوئے تھا جبکہ آپ ﷺ اس پر سوار تھے اور ابو سفیان بھی مشرکین کی طرف تیزی سے پیش قدمی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔