کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے اور اس راہ میں پیش آنے والی آزمائشوں کا واقعہ
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثني جعفر بن محمد بن خالد بن الزُّبير، عن محمد بن عبد الله بن عمرو بن عثمان، قال: كان إسلامُ خالدٍ قديمًا، وكان أولَ إخوتِه أسلَم قَبلُ، وكان بَدْءُ إسلامه أنه رأى في النوم أنه وُقِف به على شَفِير النار، فذكر من سَعَتِها ما اللهُ أعلمُ، ويَرى في النوم كأنَّ أباهُ يَدفَعُه فيها، ويرى رسولَ الله ﷺ آخِذًا بحَقْوَيهِ لا يَقَعْ، ففَزِع من نومِه، فقال: أحلِفُ بالله إنَّ هذه لَرُؤيا حَقٍّ، فلقيَ أبا بكر بن أبي قُحَافة، فذكر ذلك له، فقال أبو بكر: أُريدَ بك خيرٌ، هذا رسولُ الله ﷺ فاتَّبِعه، فإنك ستتَّبِعُه وتدخلُ معه في الإسلام، والإسلامُ يَحجُزُك أن تَدخُلَ فيها، وأبوك واقعٌ فيها، فلقي رسول الله ﷺ وهو بأجيادٍ، فقال: يا محمدُ، إلامَ تَدعُو؟ فقال: "أدعُو إلى الله وحدَه لا شَريكَ له، وأنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه، وتَخلَعُ ما كنتَ عليه من عِبادة حَجَرٍ لا يُضُرُّ ولا يَنفَعُ، ولا يدري مَن عَبَدَه ممَّن لم يَعبُدْه" قال خالدٌ: فإني أشهدُ أن لا إله إلَّا الله، وأشهدُ أنك رسولُ الله، فسُرَّ رسولُ الله ﷺ بإسلامِه، وتَغيَّب خالد، وعَلِمَ أبوه بإسلامه، فأرسل في طلبه (1) مَن بَقيَ من ولَدِه ممَّن لم يُسلِمْ ورافعًا مولاه، فوجدوه، فأتَوْا به أباهُ أبا أُحَيحَة، فأنَّبَه وبَكَّتَه وضربه بصَرِيمةٍ في يدِه حتى كَسَرها على رأسِه، ثم قال: اتَّبعتَ محمدًا وأنت تَرى خِلافَه قومَه، وما جاء به من عَيبِ آلهَتِهم وعَيبِه مَن مضى من آبائهم، فقال خالدٌ: قد صَدَقَ واللهِ واتَّبعتُه، فغَضِبَ أبوه أبو أُحَيحَة ونالَ منه وشَتَمَه، ثم قال: اذهبْ يا لُكَعُ حيث شئتَ، والله لأمنَعنَّك القُوتَ، فقال خالدٌ: إن مَنَعتَني فإنَّ الله ﷿ يَرزُقُني ما أعِيشُ به، فأخرجَه، وقال لِبَنِيه: لا يُكلِّمُه أحدٌ منكم إلَّا صنعتُ به ما صنعتُ به، فانصرف خالدٌ إلى رسول الله ﷺ، فكان يُكرِمُه ويكونُ معه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5082 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا بہت قدیم ہے اور وہ اپنے بھائیوں میں سب سے پہلے مسلمان ہوئے، ان کے اسلام لانے کا آغاز یوں ہوا کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ آگ کے ایک بہت بڑے گڑھے کے کنارے پر کھڑے ہیں (جس کی وسعت کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے) اور وہ خواب میں دیکھتے ہیں کہ گویا ان کا باپ انہیں اس آگ میں دھکا دے رہا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں کمر سے پکڑ رکھا ہے تاکہ وہ گر نہ جائیں، وہ گھبرا کر بیدار ہوئے اور کہا کہ اللہ کی قسم! یہ یقیناً سچا خواب ہے، پھر وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملے اور اپنا خواب بیان کیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے حق میں خیر کا ارادہ کیا گیا ہے، یہ رسول اللہ ﷺ ہیں تم ان کی پیروی کر لو، تم ضرور ان کے متبع بنو گے اور ان کے ساتھ اسلام میں داخل ہو جاؤ گے، اور اسلام تمہیں آگ میں گرنے سے بچا لے گا جبکہ تمہارا باپ اس میں گرنے والا ہے، چنانچہ وہ مقامِ اجیاد میں رسول اللہ ﷺ سے ملے اور پوچھا: اے محمد (ﷺ)! آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اللہ وحدہ لا شریک کی دعوت دیتا ہوں اور اس بات کی کہ محمد اس کا بندہ اور رسول ہے، اور تم ان پتھروں کی عبادت چھوڑ دو جو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع، اور نہ ہی انہیں یہ معلوم ہے کہ کون ان کی عبادت کر رہا ہے اور کون نہیں۔“ خالد نے عرض کیا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، رسول اللہ ﷺ ان کے اسلام لانے پر بہت خوش ہوئے، پھر خالد روپوش ہو گئے، جب ان کے باپ ابواحیحہ کو ان کے اسلام لانے کا علم ہوا تو اس نے اپنے ان بیٹوں کو جو ابھی اسلام نہیں لائے تھے اور اپنے غلام رافع کو انہیں ڈھونڈنے بھیجا، جب وہ مل گئے تو انہیں ان کے باپ کے پاس لایا گیا، اس نے انہیں سخت ڈانٹا، ملامت کی اور اپنے ہاتھ میں موجود ایک چھڑی سے ان کے سر پر اتنا مارا کہ وہ ٹوٹ گئی، پھر اس نے کہا: تم نے محمد کی پیروی کر لی حالانکہ تم دیکھ رہے ہو کہ وہ اپنی قوم کے مخالف ہیں اور انہوں نے ہمارے معبودوں اور آباؤ اجداد کی عیب جوئی کی ہے؟ خالد نے کہا: اللہ کی قسم! انہوں نے سچ کہا ہے اور میں نے ان کی پیروی کر لی ہے، اس پر ان کا باپ غصے میں آگیا، انہیں برا بھلا کہا اور گالیاں دیں، پھر کہا: اے بیوقوف! جہاں جی چاہے دفع ہو جاؤ، اللہ کی قسم! میں تمہارا دانہ پانی بند کر دوں گا، خالد نے جواب دیا: اگر آپ میرا رزق بند کر دیں گے تو اللہ عزوجل مجھے وہ رزق ضرور دے گا جس پر میں زندگی گزار سکوں، پس اس نے انہیں نکال دیا اور اپنے بیٹوں سے کہا کہ تم میں سے جو بھی اس سے بات کرے گا اس کے ساتھ بھی وہی کروں گا جو اس کے ساتھ کیا ہے، چنانچہ خالد رسول اللہ ﷺ کے پاس چلے گئے اور آپ ﷺ ان کی تکریم فرماتے اور وہ آپ ﷺ کے ساتھ ہی رہنے لگے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5160
درجۂ حدیث محدثین: خبر أبي أحيحة مع ابنه خالد حسن لغيره إن شاء الله
تخریج حدیث «خبر أبي أحيحة مع ابنه خالد حسن لغيره إن شاء الله، وهذا إسناد مُعضل من أجل أنَّ محمد بن عبد الله بن عمرو بن عثمان بن عفان من تبع الأتباع، لكن روى محمدُ بن عمر - وهو الواقدي - خبر أبي أحيحة سعيد بن العاص مع ابنه خالد لما أسلم ...» [ترقيم الرساله 5160] [ترقيم الشركة 5115] [ترقيم العلميه 5082]
أخبرني عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزاعي بمكة، حدثنا أبو يحيى عبد الله بن أحمد بن أبي مَسَرّة، حدثنا أحمد بن محمد بن الوليد الأزرقي، حدثنا عمرو بن يحيى بن سعيد بن العاص، عن جدِّه، عن عَمِّه خالد بن سعيد: أنَّ سعيد بن العاص بن أميّة مَرِض، فقال: لئن رَفَعَني اللهُ من مَرَضي هذا لا يُعبَدُ إلهُ ابن أبي كَبْشَةَ ببَطْنِ مكة، فقال خالد بن سعيد عند ذلك: اللهم لا ترَفَعْه (1). فأمَّا وفاةُ خالد بن سعيد وكُنْيتُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5083 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ان کے والد) سعید بن العاص بن امیہ بیمار ہوئے تو کہنے لگے: اگر اللہ نے مجھے اس بیماری سے شفا دے دی تو مکہ کی وادی میں ”ابن ابی کبشہ“ (محمد ﷺ) کے معبود کی عبادت نہیں ہونے دوں گا، تب خالد بن سعید نے (غیرتِ ایمانی میں) یہ دعا کی: «اللهم لا تَرَفَعْه» ”اے اللہ! اسے اس بیماری سے نہ اٹھانا (یعنی شفا نہ دینا)۔“ رہا خالد بن سعید کی وفات اور ان کی کنیت کا تذکرہ:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5161
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «رجاله ثقات، لكنه منقطع، فإنَّ سعيد بن العاص - وهو سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص بن سعيد بن العاص بن أميّة، نسب هنا لجد أبيه الأدنى أو الأعلى - لا يُدرك خالدَ بن سعيد بن العاص، وقد سمع سعيدُ بن عمرو هذا من أم خالد بنت خالد بن ...» [ترقيم الرساله 5161] [ترقيم الشركة 5116] [ترقيم العلميه 5083]