المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
قِصَّةُ إِسْلَامِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ وَمَصَائِبِهِ فِيهِ باب: سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے اور اس راہ میں پیش آنے والی آزمائشوں کا واقعہ
حدیث نمبر: 5161
أخبرني عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزاعي بمكة، حدثنا أبو يحيى عبد الله بن أحمد بن أبي مَسَرّة، حدثنا أحمد بن محمد بن الوليد الأزرقي، حدثنا عمرو بن يحيى بن سعيد بن العاص، عن جدِّه، عن عَمِّه خالد بن سعيد: أنَّ سعيد بن العاص بن أميّة مَرِض، فقال: لئن رَفَعَني اللهُ من مَرَضي هذا لا يُعبَدُ إلهُ ابن أبي كَبْشَةَ ببَطْنِ مكة، فقال خالد بن سعيد عند ذلك: اللهم لا ترَفَعْه (1). فأمَّا وفاةُ خالد بن سعيد وكُنْيتُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5083 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ان کے والد) سعید بن العاص بن امیہ بیمار ہوئے تو کہنے لگے: اگر اللہ نے مجھے اس بیماری سے شفا دے دی تو مکہ کی وادی میں ”ابن ابی کبشہ“ (محمد ﷺ) کے معبود کی عبادت نہیں ہونے دوں گا، تب خالد بن سعید نے (غیرتِ ایمانی میں) یہ دعا کی: «اللهم لا تَرَفَعْه» ”اے اللہ! اسے اس بیماری سے نہ اٹھانا (یعنی شفا نہ دینا)۔“ رہا خالد بن سعید کی وفات اور ان کی کنیت کا تذکرہ:
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) رجاله ثقات، لكنه منقطع، فإنَّ سعيد بن العاص - وهو سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص بن سعيد بن العاص بن أميّة، نسب هنا لجد أبيه الأدنى أو الأعلى - لا يُدرك خالدَ بن سعيد بن العاص، وقد سمع سعيدُ بن عمرو هذا من أم خالد بنت خالد بن سعيد، فلعله سمع هذا الخبر منها، فإن صحَّ ذلك اتصل الإسناد وكان صحيحًا، والله تعالى أعلم. وأخرجه ابن سعد 4/ 89، والطبراني في "الكبير" (4119)، وابن عساكر 16/ 176 من طرق عن عمرو بن يحيى، به.
درجۂ حدیث: (1) اس کے راوی ثقہ ہیں، لیکن یہ "منقطع" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: کیونکہ "سعید بن العاص" (جو دراصل سعید بن عمرو بن سعید بن العاص بن سعید بن العاص بن امیہ ہیں، اور یہاں اپنے قریبی یا دور کے دادا کی طرف منسوب ہوئے ہیں) نے خالد بن سعید بن العاص کا زمانہ نہیں پایا۔ البتہ سعید بن عمرو نے "ام خالد بنت خالد بن سعید" سے سنا ہے، تو شاید انہوں نے یہ خبر ان سے سنی ہو۔ اگر ایسا ثابت ہو جائے تو سند متصل ہو جائے گی اور صحیح ہوگی، واللہ اعلم۔
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد [4/ 89]، طبرانی نے "الکبیر" (4119) اور ابن عساكر [16/ 176] نے عمرو بن یحییٰ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (1) اس کے راوی ثقہ ہیں، لیکن یہ "منقطع" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: کیونکہ "سعید بن العاص" (جو دراصل سعید بن عمرو بن سعید بن العاص بن سعید بن العاص بن امیہ ہیں، اور یہاں اپنے قریبی یا دور کے دادا کی طرف منسوب ہوئے ہیں) نے خالد بن سعید بن العاص کا زمانہ نہیں پایا۔ البتہ سعید بن عمرو نے "ام خالد بنت خالد بن سعید" سے سنا ہے، تو شاید انہوں نے یہ خبر ان سے سنی ہو۔ اگر ایسا ثابت ہو جائے تو سند متصل ہو جائے گی اور صحیح ہوگی، واللہ اعلم۔
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد [4/ 89]، طبرانی نے "الکبیر" (4119) اور ابن عساكر [16/ 176] نے عمرو بن یحییٰ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5161 سے ماخوذ ہے۔