کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: یومِ اجنادین سیدنا ہشام بن العاص رضی اللہ عنہ کی شجاعت اور ان کی شہادت کا بیان
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، عن شُيوخه، قالوا: هشام بن العاص [بن وائل] (1) بن هاشم (2) بن سُعَيد (3) بن سَهْم، وأمّه حرملة بنت هشام بن المُغيرة، وكان هشامٌ قديمَ الإسلام بمكةَ قبل أخيه عمرو، وهاجر إلى أرضِ الحبشة، ثم قدم مكةَ حين بلغه مُهاجَرُ النبيّ ﷺ إلى المدينة، وأراد اللَّحَاق به فحبَسه أبوه وقومُه بمكةَ، حتى قدِم بعد الخندق على النبي ﷺ المدينةَ، فشَهِد ما بعد بعد ذلك من المَشاهد كلِّها، وكان أصغر سِنًّا من أخيه عَمرو بن العاص.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر اپنے مشائخ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ہشام بن العاص بن وائل رضی اللہ عنہ اپنے بھائی عمرو بن العاص سے پہلے مکہ میں قدیم الاسلام تھے، انہوں نے سرزمینِ حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور جب انہیں نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ ہجرت کی خبر ملی تو وہ مکہ واپس آگئے تاکہ آپ ﷺ کے پاس پہنچ سکیں لیکن ان کے والد اور ان کی قوم نے انہیں مکہ میں قید کر لیا، یہاں تک کہ وہ غزوہ خندق کے بعد نبی کریم ﷺ کے پاس مدینہ پہنچے اور اس کے بعد تمام غزوات میں شرکت کی، وہ عمر میں اپنے بھائی عمرو بن العاص سے چھوٹے تھے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5127
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5127] [ترقيم الشركة 5084]
قال ابن عمر: فحدثَني ثَور بن يَزيد، عن خالد مَعْدان، قال: لما بن انهزمتِ الرُّومُ يومَ أجنادينَ انتهَوا إلى موضعٍ ضَيِّق لا يَعبُرُ إلَّا إنسانٌ إنسانٌ، فجعلتِ الرومُ تُقاتل عليه، وقد تَقدَّمُوه وعَبَروه، فتقدّم هشامُ بن العاص بن وائل فقاتَلَهم عليه حتى قُتِل، وذلك في أول خِلافة عُمر بن الخطاب سنة ثلاثَ عشرةَ (4).
حافظ طلحہ بابر
خالد بن معدان سے روایت ہے کہ جب جنگِ اجنادین کے دن رومیوں کو شکست ہوئی تو وہ ایک ایسے تنگ مقام پر پہنچ گئے جہاں سے صرف ایک ایک کر کے ہی گزرنا ممکن تھا، رومی وہاں (پلٹ کر) لڑنے لگے جبکہ کچھ وہاں سے گزر چکے تھے، اس موقع پر سیدنا ہشام بن العاص بن وائل رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اس مقام پر ان سے قتال کیا یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے، یہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے آغاز میں سن 13 ہجری کا واقعہ ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5128
تخریج حدیث «، وفي "الزهد" (525)» [ترقيم الرساله 5128] [ترقيم الشركة 5284/1]
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، خَلَف القاضي، حدثنا محمد بن سعد العَوْفي، حدثنا أبي، حدثنا مَخْرَمة بن بُكَير بن الأشَجِّ، عن أم بكر بنت المِسوَر بن مَخْرمة، قالت: كان هشامُ بن العاص بن وائل رجلًا صالحًا، رأى يوم أجْنادِينَ من المسلمين بعضَ النُّكُوص عن عَدوّهم، فألقى المِغفَر، ثم قال: يا معشرَ المسلمين، إن هؤلاء الغُلْفانَ لا صَبْرَ لهم على السَّيف، فاصنَعُوا كما أصنَعُ، قال: فجعل يَدخُل وسطهم فيقتُل النفرَ منهم، جعل يتقدَّم في نَحْر العَدوّ وهو يَصيحُ: إليَّ يا معشر المسلمين، إليَّ أنا هشامُ بن العاص بن وائل، أمِنَ الجنةِ تَفِرُّون؟! حتى قُتل (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5052 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ام بکر بنت مسور بن مخرمہ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ہشام بن العاص بن وائل رضی اللہ عنہ ایک صالح انسان تھے، انہوں نے اجنادین کے دن مسلمانوں میں دشمن کے سامنے کچھ کمزوری محسوس کی تو اپنی آہنی ٹوپی (خود) اتار دی اور پکار کر کہا: اے گروہِ مسلمین! یہ لوگ (رومی) تلوار کی ضرب جھیلنے کا حوصلہ نہیں رکھتے، پس تم بھی ویسا ہی کرو جیسا میں کر رہا ہوں، پھر وہ دشمن کے بیچوں بیچ گھس گئے اور ان کے کئی آدمیوں کو قتل کیا، وہ دشمن کے سینے میں اترتے چلے گئے اور بلند آواز سے پکار رہے تھے: ”اے مسلمانوں کے گروہ! میری طرف آؤ، میں ہشام بن العاص بن وائل ہوں، کیا تم جنت سے بھاگ رہے ہو؟!“ یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5129
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5129] [ترقيم الشركة 5085] [ترقيم العلميه 5052]
أخبرني حامد بن محمد المُذكِّر، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حَجّاج بن مِنْهال، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، أبي أبي هريرة قال: قال رسولُ الله ﷺ: "ابنا العاص مُؤمنان: هشامٌ وعَمرٌو" (2). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5053 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عاص کے دونوں بیٹے مومن ہیں: ہشام اور عمرو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5130
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي.» [ترقيم الرساله 5130] [ترقيم الشركة 5086] [ترقيم العلميه 5053]