المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ شَجَاعَةِ هِشَامِ بْنِ الْعَاصِ يَوْمَ أَجْنَادِينَ وَشَهَادَتِهِ باب: یومِ اجنادین سیدنا ہشام بن العاص رضی اللہ عنہ کی شجاعت اور ان کی شہادت کا بیان
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، خَلَف القاضي، حدثنا محمد بن سعد العَوْفي، حدثنا أبي، حدثنا مَخْرَمة بن بُكَير بن الأشَجِّ، عن أم بكر بنت المِسوَر بن مَخْرمة، قالت: كان هشامُ بن العاص بن وائل رجلًا صالحًا، رأى يوم أجْنادِينَ من المسلمين بعضَ النُّكُوص عن عَدوّهم، فألقى المِغفَر، ثم قال: يا معشرَ المسلمين، إن هؤلاء الغُلْفانَ لا صَبْرَ لهم على السَّيف، فاصنَعُوا كما أصنَعُ، قال: فجعل يَدخُل وسطهم فيقتُل النفرَ منهم، جعل يتقدَّم في نَحْر العَدوّ وهو يَصيحُ: إليَّ يا معشر المسلمين، إليَّ أنا هشامُ بن العاص بن وائل، أمِنَ الجنةِ تَفِرُّون؟! حتى قُتل (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5052 - سكت عنه الذهبي في التلخيصام بکر بنت مسور بن مخرمہ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ہشام بن العاص بن وائل رضی اللہ عنہ ایک صالح انسان تھے، انہوں نے اجنادین کے دن مسلمانوں میں دشمن کے سامنے کچھ کمزوری محسوس کی تو اپنی آہنی ٹوپی (خود) اتار دی اور پکار کر کہا: اے گروہِ مسلمین! یہ لوگ (رومی) تلوار کی ضرب جھیلنے کا حوصلہ نہیں رکھتے، پس تم بھی ویسا ہی کرو جیسا میں کر رہا ہوں، پھر وہ دشمن کے بیچوں بیچ گھس گئے اور ان کے کئی آدمیوں کو قتل کیا، وہ دشمن کے سینے میں اترتے چلے گئے اور بلند آواز سے پکار رہے تھے: ”اے مسلمانوں کے گروہ! میری طرف آؤ، میں ہشام بن العاص بن وائل ہوں، کیا تم جنت سے بھاگ رہے ہو؟!“ یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" (4/180) میں اور ان کے طریق سے ابن الجوزي نے "المنتظم" (4/158) میں محمد بن عمر الواقدی عن مخرمہ بن بکیر عن ام بکر سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ: یہ "مرسل" روایت ہے۔ اور صحیح بات وہی ہے جو پہلے گزری کہ ہشام بن العاص ؓ یومِ یرموک کو شہید ہوئے۔