المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ شَجَاعَةِ هِشَامِ بْنِ الْعَاصِ يَوْمَ أَجْنَادِينَ وَشَهَادَتِهِ باب: یومِ اجنادین سیدنا ہشام بن العاص رضی اللہ عنہ کی شجاعت اور ان کی شہادت کا بیان
حدیث نمبر: 5127
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، عن شُيوخه، قالوا: هشام بن العاص [بن وائل] (1) بن هاشم (2) بن سُعَيد (3) بن سَهْم، وأمّه حرملة بنت هشام بن المُغيرة، وكان هشامٌ قديمَ الإسلام بمكةَ قبل أخيه عمرو، وهاجر إلى أرضِ الحبشة، ثم قدم مكةَ حين بلغه مُهاجَرُ النبيّ ﷺ إلى المدينة، وأراد اللَّحَاق به فحبَسه أبوه وقومُه بمكةَ، حتى قدِم بعد الخندق على النبي ﷺ المدينةَ، فشَهِد ما بعد بعد ذلك من المَشاهد كلِّها، وكان أصغر سِنًّا من أخيه عَمرو بن العاص.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر اپنے مشائخ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ہشام بن العاص بن وائل رضی اللہ عنہ اپنے بھائی عمرو بن العاص سے پہلے مکہ میں قدیم الاسلام تھے، انہوں نے سرزمینِ حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور جب انہیں نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ ہجرت کی خبر ملی تو وہ مکہ واپس آگئے تاکہ آپ ﷺ کے پاس پہنچ سکیں لیکن ان کے والد اور ان کی قوم نے انہیں مکہ میں قید کر لیا، یہاں تک کہ وہ غزوہ خندق کے بعد نبی کریم ﷺ کے پاس مدینہ پہنچے اور اس کے بعد تمام غزوات میں شرکت کی، وہ عمر میں اپنے بھائی عمرو بن العاص سے چھوٹے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) هذه الزيادة من "طبقات ابن سعد" 4/ 178.
استدراک: یہ زیادتی (اضافہ) ابن سعد کی "الطبقات" (4/178) سے لی گئی ہے۔
(2) تحرّف في نسخنا الخطية إلى: هشام، وصوَّبناه من مصادر الترجمة والأنساب.
تصحیحِ متن: قلمی نسخوں میں (نام) تحریف ہو کر "ہشام" بن گیا تھا، ہم نے تراجم اور انساب کے مصادر کی مدد سے اس کی تصحیح کر دی ہے۔
(3) تحرَّف في (ز) و (م) و (ب) إلى: سعْد، وضُبط في (ص) سَعيد بفتح العين دلالة على أنه تصغير سعْد، وهو الموافق لما ضبطه به الدارقطني في "المؤتلف والمختلف" 3/ 1188، وقال ابن ماكولا في "الإكمال" 4/ 304: اسمه سَعيد، بفتح السين وكسر العين، وقريش تُصغِّره فتسميه سُعَيدًا تصغير سعْد.
تحقیقِ نام: نسخہ (ز)، (م) اور (ب) میں یہ نام تحریف ہو کر "سعد" بن گیا تھا۔ نسخہ (ص) میں "سَعید" (عین کی زبر کے ساتھ) ضبط کیا گیا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ "سعد" کی تصغیر (سُعَید) ہے۔ یہی دارقطنی کے "المؤتلف والمختلف" (3/1188) میں دیے گئے ضبط کے موافق ہے۔ ابن ماکولا نے "الاکمال" (4/304) میں کہا: "ان کا نام سَعید (سین کی زبر اور عین کی زیر) ہے، لیکن قریش تصغیر کر کے انہیں سُعَید کہتے تھے۔"
استدراک: یہ زیادتی (اضافہ) ابن سعد کی "الطبقات" (4/178) سے لی گئی ہے۔
(2) تحرّف في نسخنا الخطية إلى: هشام، وصوَّبناه من مصادر الترجمة والأنساب.
تصحیحِ متن: قلمی نسخوں میں (نام) تحریف ہو کر "ہشام" بن گیا تھا، ہم نے تراجم اور انساب کے مصادر کی مدد سے اس کی تصحیح کر دی ہے۔
(3) تحرَّف في (ز) و (م) و (ب) إلى: سعْد، وضُبط في (ص) سَعيد بفتح العين دلالة على أنه تصغير سعْد، وهو الموافق لما ضبطه به الدارقطني في "المؤتلف والمختلف" 3/ 1188، وقال ابن ماكولا في "الإكمال" 4/ 304: اسمه سَعيد، بفتح السين وكسر العين، وقريش تُصغِّره فتسميه سُعَيدًا تصغير سعْد.
تحقیقِ نام: نسخہ (ز)، (م) اور (ب) میں یہ نام تحریف ہو کر "سعد" بن گیا تھا۔ نسخہ (ص) میں "سَعید" (عین کی زبر کے ساتھ) ضبط کیا گیا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ "سعد" کی تصغیر (سُعَید) ہے۔ یہی دارقطنی کے "المؤتلف والمختلف" (3/1188) میں دیے گئے ضبط کے موافق ہے۔ ابن ماکولا نے "الاکمال" (4/304) میں کہا: "ان کا نام سَعید (سین کی زبر اور عین کی زیر) ہے، لیکن قریش تصغیر کر کے انہیں سُعَید کہتے تھے۔"
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5127 سے ماخوذ ہے۔