کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان (اور ان کے والد کا نام معروف ہے)
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا جعفر بن محمد الفِرْيابي، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدّمشقي، حدثنا عبد الرحمن بن بَشير، عن محمد بن إسحاق، أخبرني نافع، عن ابن عمر، قال: كنا نقولُ: ما لأحدٍ توبةٌ إذا تَرَكَ دينَه بعد إسلامه ومَعرفتِه، فأنزلَ الله فيهم: ﴿يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ﴾ [الزمر:53] وكتبتهُا بِيَدِي، ثم بعثتُ بها إلى هشامِ بن العاصِ بن وائل، فصاحَ بها، فجلس على بَعِيره، ثم لَحِق بالمدينة (1). ذكرُ مناقب عِكرمةَ بن أبي جَهْل، واسمُ أبيه مشهورٌ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5054 - عبد الرحمن بن بشير منكر الحديث
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5054 - عبد الرحمن بن بشير منكر الحديث
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم (صحابہ) یہ کہا کرتے تھے کہ جس شخص نے اسلام لانے اور اس کی پہچان حاصل کرنے کے بعد اپنا دین چھوڑ دیا، اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، تب اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی: ﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ﴾ [سورة الزمر: 53] ”(اے نبی!) کہہ دیجیے کہ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔“ ابن عمر کہتے ہیں کہ میں نے یہ آیت اپنے ہاتھ سے لکھی اور اسے ہشام بن العاص بن وائل کی طرف بھیج دیا، انہوں نے اسے بلند آواز سے پڑھا، پھر اپنے اونٹ پر سوار ہوئے اور مدینہ منورہ پہنچ گئے۔
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين، حدثنا محمد بن عمر، أنَّ أبا بكر بن عبد الله بن أبي سَبْرة حدّثَه عن (2) موسى بن عُقبة، عن أبي حَبِيبة مولى عبد الله بن الزُّبير، [عن عبد الله بن الزُّبَير] (3) قال: فلما كان يومُ فَتْح مكةَ هرب عِكْرمةُ بن أبي جهل، وكانت امرأتُه أمُّ حكيم بنتُ الحارث بن هشام امرأةً عاقلةً أسلمتْ، ثم سألتْ رسولَ الله ﷺ، فأمَرَها بردِّه، وقالتْ له: جِئتُك من عند أَوصَلِ الناسِ وأبرِّ الناسِ وخَيرِ الناس، وقد استأمَنتُ لك فأمَّنَك، فرجع معها، فلما دنا من مكة قال رسولُ الله ﷺ لأصحابه: "يأتيكُم عِكْرمة بن أبي جَهل مُؤمِنًا مُهاجرًا، فلا تَسبُّوا أباه، فإِنَّ سَبَّ الميتِ يُؤذي الحيَّ ولا يَبلُغُ الميتَ"، فلما بلغ بابَ رسول الله ﷺ استَبْشَر ووَثَبَ له رسولُ الله ﷺ قائمًا على رجليه فَرَحًا بقُدومِه (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5055 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5055 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو عکرمہ بن ابی جہل (خوف کے مارے) بھاگ گئے، ان کی زوجہ ام حکیم بنت حارث بن ہشام ایک نہایت عقل مند خاتون تھیں، انہوں نے اسلام قبول کیا اور پھر رسول اللہ ﷺ سے (اپنے شوہر کے لیے) امان طلب کی، آپ ﷺ نے انہیں عکرمہ کو واپس لانے کا حکم دیا۔ انہوں نے عکرمہ سے جا کر کہا: ”میں تمہارے پاس اس ہستی کے پاس سے آئی ہوں جو سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے، سب سے زیادہ نیکی کرنے والے اور لوگوں میں سب سے بہتر ہیں، میں نے تمہارے لیے امان طلب کی ہے اور انہوں نے تمہیں امان دے دی ہے“، چنانچہ عکرمہ ان کے ساتھ واپس آ گئے۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”تمہارے پاس عکرمہ بن ابی جہل مومن اور مہاجر بن کر آ رہا ہے، تم اس کے باپ کو برا بھلا نہ کہنا، کیونکہ مردے کو گالی دینا زندہ کو تکلیف پہنچاتا ہے جبکہ وہ مردے تک نہیں پہنچتی۔“ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے دروازے پر پہنچے تو آپ ﷺ بہت خوش ہوئے اور ان کی آمد کی مسرت میں اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر ان کا استقبال فرمایا۔