کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا ابو کبشہ، مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مناقب کا بیان
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عمر أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، أخبرني داود بن الحُصين، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ ضِرار بن الأزْوَر لما أسلَمَ أتى النبيَّ ﷺ، فأنشأَ يقول: تركتُ القِداحَ وعَزْفَ القِيَا … نِ والخمرَ تصْلِيةً وابتِهالا وكَرُّ المُحبَّرِ في عُمْرةٍ … وجَهدِي على المشركين القِتالا وقالت جميلةُ: بَدَّدْتَنا … وطَرَّحتَ أهْلَكَ شَتَّى شِلالا فيا ربِّ لا أُغْبَنَنْ صَفْقَتي … فقد بِعتُ أهلي ومالي بِدَالا فقال رسول الله ﷺ: "ما غُبِنتَ صَفْقتك يا ضِرارُ" (2). ذكرُ مناقب أبي كَبْشة مولى رسول الله ﷺ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5042 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ اشعار پڑھے: ”میں نے جوئے کے تیر، سارنگیوں کی آواز اور شراب کو چھوڑ کر اب نماز اور گریہ و زاری کو اپنا لیا ہے، اب میرا شوق عمرہ میں اللہ کی حمد و ثنا کرنا اور مشرکین کے خلاف قتال میں اپنی پوری کوشش صرف کرنا ہے، میری بیوی جمیلہ نے کہا کہ تم نے ہمیں برباد کر دیا اور اپنے اہل و عیال کو منتشر کر کے دور پھینک دیا، پس اے میرے رب! میرے اس سودے میں مجھے خسارہ نہ دینا، کیونکہ میں نے اپنے اہل و مال کو (آخرت کے) بدلے میں بیچ دیا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ضرار! تمہارا یہ سودا ہرگز خسارے والا نہیں رہا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5116
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق.» [ترقيم الرساله 5116] [ترقيم الشركة 5075] [ترقيم العلميه 5042]
أخبرني أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا خَليفة بن خَيّاط العُصفُري، قال: مات أبو كَبْشةَ مولى رسولِ الله ﷺ سنةَ ثلاثَ عشرةَ (1).
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ کی وفات سن 13 ہجری میں ہوئی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5117
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5117] [ترقيم الشركة 5076]
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، عن شيوخه، قالوا: أبو كَبْشة مولى رسولِ الله ﷺ اسمُه سُلَيم، وكان من مُولَّدي أرض دَوْس، شهدَ أبو كَبْشة مع رسول الله ﷺ بدرًا وأُحدًا والمَشاهدَ كلَّها. وتوفي أولَ يوم استُخلِف فيه عمرُ بن الخطّاب، وذلك يومَ الثلاثاء لثَمانِ ليالٍ بَقِين من جُمادى الأولى سنة ثلاثَ عشرةَ من الهجرة (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5044 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر اپنے شیوخ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ کا نام سلیم تھا، ان کی پیدائش سرزمینِ دوس میں ہوئی تھی، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوہ بدر، احد اور تمام غزوات میں شرکت کی، ان کی وفات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے دن ہوئی، جو کہ سن 13 ہجری جمادی الاولیٰ کی بائیس تاریخ بروز منگل کا دن تھا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5118
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5118] [ترقيم الشركة 5077] [ترقيم العلميه 5044]