کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کا اشعار پڑھنا اور آپ کی ان کے لیے دعا
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حدثنا جَدّي، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزامي، حدثنا محمد بن فُليح، عن موسى بن عُقبة، عن ابن شِهاب، قال: قُتل ضِرارُ بن الأَزْوَر الأسَدي يومَ أَجْنادِينَ (2).
حافظ طلحہ بابر
ابن شہاب سے مروی ہے کہ سیدنا ضرار بن ازور اسدی رضی اللہ عنہ جنگِ اجنادین کے دن شہید ہوئے۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبَهاني، حدثنا محمد بن الحَسَن (3) بن علي بن البَرِّي، حدثنا أبي، حدثنا ابن المبارك، حدثنا الأعمش، عن يعقوب بن بَحِير، عن ضرار بن الأزْوَر قال: أتيتُ النبيّ ﷺ بلَقُوحٍ من أهلي، فقال لي: "احلُبْها" فذهبتُ لأُجْهدَها، فقال: "لا تُجهِدْها، دَعْ داعيَ اللَّبَنِ" (1). صحيح الإسناد، ولا نحفظ لضرارٍ عن رسول الله ﷺ غيرَ هذا. فأما فضيلتُه، فدعا رسولُ الله ﷺ له لما أنشدَه قصيدتَه التي:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنے گھر والوں کی ایک دودھ دینے والی اونٹنی لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اس کا دودھ نکالو“، میں نے اسے پوری طرح نچوڑنا چاہا تو آپ ﷺ نے فرمایا: «لَا تُجْهِدْهَا، دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ» ”اسے پوری طرح نہ نچوڑو، کچھ دودھ (تھنوں میں) باقی رہنے دو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اور ہمیں سیدنا ضرار رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ ﷺ سے اس کے علاوہ کوئی اور روایت معلوم نہیں۔ رہا ان کی فضیلت کا معاملہ، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے اس وقت دعا فرمائی جب انہوں نے اپنا وہ قصیدہ سنایا تھا جس کا ذکر اگلی روایت میں ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اور ہمیں سیدنا ضرار رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ ﷺ سے اس کے علاوہ کوئی اور روایت معلوم نہیں۔ رہا ان کی فضیلت کا معاملہ، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے اس وقت دعا فرمائی جب انہوں نے اپنا وہ قصیدہ سنایا تھا جس کا ذکر اگلی روایت میں ہے۔