حدیث نمبر: 5113
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحَسن بن الجهم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، عن شُيوخه: أنَّ ضِرار بن الأَزْوَر الشاعر، اسمُ الأزْوَر مالكُ بن أوسِ بن جَذِيمة (1) بن رَبيعة بن مالك بن ثعلبة بن أسَد بن خُزيمة، وكان ضرارٌ فارسًا شاعرًا، شهد يوم اليَمامة، فقاتل أشدَّ القِتال حتى قُطِعت ساقاهُ جميعًا، فجعل يَجثُو على رُكبتَيه ويُقاتِل وتطؤُه الخيلُ حتى غَلَبَه الموتُ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5039 - حذفه الذهبي من التلخيص
حافظ طلحہ بابر

محمد بن عمر اپنے شیوخ سے روایت کرتے ہیں کہ ضرار بن ازور شاعر، جن کے والد ازور کا نام مالک بن اوس تھا، ایک مایہ ناز شہسوار اور شاعر تھے۔ وہ جنگِ یمامہ میں شریک ہوئے اور ایسی شدید جنگ لڑی کہ ان کی دونوں پنڈلیاں کٹ گئیں، وہ اپنے گھٹنوں کے بل جھک کر لڑتے رہے اور گھوڑے انہیں روندتے رہے یہاں تک کہ موت ان پر غالب آگئی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5113
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5113] [ترقيم الشركة 5072] [ترقيم العلميه 5039]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: خزيمة، بالزاي بدل الذال، وانظر "اللباب في تهذيب الأنساب" لأبي الحسن عز الدين بن الأثير نسبة (الجَذَمي).
تصحیحِ متن: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "خزیمہ" (زے کے ساتھ) بن گیا تھا، حالانکہ (درست ذال کے ساتھ ہے)، دیکھیے: ابو الحسن عز الدین بن الاثیر کی "اللباب فی تہذیب الانساب" میں نسبت (الجَذَمي)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5113 سے ماخوذ ہے۔