کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے جسم پر ستر سے زائد زخم پائے گئے
حَدَّثَنَا محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا الحُسين بن الفضل، حَدَّثَنَا سليمان ابن حَرْب، حَدَّثَنَا حماد بن سَلَمة، عن عبد الله بن المُختار، عن محمد بن سِيرِين، عن أبي هريرة، قال: قال رسولُ الله ﷺ: "مَرَّ بي جعفرٌ الليلةَ في ملأٍ من الملائكة، وهو مُخَضَّبُ الجَناحَين بالدَّمِ أبيضُ القَوادمِ (1) " (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4943 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج رات جعفر فرشتوں کی ایک جماعت میں میرے پاس سے گزرے، ان کے دونوں بازو خون سے رنگے ہوئے تھے اور ان کے اگلے پر سفید تھے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5008
درجۂ حدیث محدثین: رجاله لا بأس بهم
تخریج حدیث «رجاله لا بأس بهم، إلَّا أنَّ حماد بن سلمة قد خولف في وصله، خالفه حماد بن زيد - وهو أضبط للرواية منه - عند ابن سعد في "الطبقات" 4/ 36، وابن أبي الدنيا في "الهواتف" (11)، فرواه عن عبد الله بن المختار عن النَّبِيّ ﷺ معضَلًا، ومع ذلك قوَّى ابن ...» [ترقيم الرساله 5008] [ترقيم الشركة 4974] [ترقيم العلميه 4943]
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا أبو ثابت محمد بن عُبيد الله، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن محمد، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر، قال: ضربَ رسولُ الله ﷺ لجعفرِ بن أبي طالب يومَ بدرٍ بسَهْمه وأجْرِه (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ بدر کے دن سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے لیے (ان کی غیر موجودگی کے باوجود) مالِ غنیمت میں سے حصہ اور اجر مقرر فرمایا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5009
درجۂ حدیث محدثین: خبر منكر
تخریج حدیث «خبر منكر، وقد اختُلف فيه عن عبد العزيز بن محمد - وهو الدَّراوردي - فرواه عنه أبو ثابت محمد بن عبيد الله هنا عند المصنّف موصولًا، وخالفه يعقوب بن محمد الزهري عند الحارث بن أبي أسامة كما في "بغية الباحث" (684)، ومحمدُ بنُ عمر الواقدي في "مغازيه" 1/ 153، وهما ...» [ترقيم الرساله 5009]
أخبرنا علي بن عبد الرحمن السَّبيعي، حَدَّثَنَا الحُسين بن الحَكَم، حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبان، حَدَّثَنَا أبو أُويس، عن عُبيد الله (1) بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال: كُنَّا بمؤتةَ مع جعفرِ بن أبي طالب، فوَجَدْناه في القَتْلى، فوجدنا به بِضْعًا وسبعين (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4944 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم غزوہ موتہ میں سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ہم نے انہیں شہداء میں پایا تو (دیکھا کہ) ان کے جسم پر ستر سے زائد (زخم) تھے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5010
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، رواه جماعة عن نافع، لكن لم يروه عن عُبيد الله بن عمر - وهو العُمري - غير أبي أويس - وهو عَبد الله بن عَبد الله بن أويس - وهو ضعيفٌ يُعتبر به، ولهذا قال أبو حاتم فيما نقله عنه ابنُه في "العلل" (995): حديث منكر من حديث عُبيد الله.» [ترقيم الرساله 5010] [ترقيم الشركة 4975] [ترقيم العلميه 4944]
أخبرنا الحسن بن علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني بالكوفة، حَدَّثَنَا محمد بن علي بن عَفّان العامِري، حَدَّثَنَا الحسن بن بشر بن سَلْم العِجْلي، حَدَّثَنَا سَعْدان بن يحيى، عن عطاء، عن ابن عباس، قال: بينما رسولُ الله ﷺ جالسٌ وأسماءُ بنتُ عُمَيس قريبةٌ منه إذ ردَّ السلامَ، فأشار بيدِه، ثم قال: "يا أسماءُ، هذا جعفرُ بن أبي طالبٍ مع جبريلَ وميكائيلَ، مَرُّوا فسلَّمُوا علينا، فرُدِّي عليهمُ السلامَ، وقد أخبرَ أنه لقيَ المشركين يومَ كذا وكذا - قبلُ بثلاثٍ أو أربعٍ - فقال: لقيتُ المشركين فأُصِبتُ من مَقادِيمي ثلاثًا وسبعين بين طَعْنةٍ ورَمْيةٍ، فأخذتُ اللواءَ بيدي اليُمنى فقُطِعت، ثم أخذتُه بيدي اليُسرى فقُطِعت، فعوَّضَني الله من يَدَيَّ جَناحَين أَطيرُ بهما في الجنة مع جبريلَ وميكائيلَ، فآكُلُ من ثمارِها ما شئتُ"، قالت أسماءُ: هنيئًا لجعفرٍ ما رزقه اللهُ من الخير، قال: ثم صَعِدَ رسولُ الله ﷺ المِنبرَ فأخبرَ به الناسَ، قال: فاستبانَ الناسُ بعد ذلك ما أخبرَ به رسولُ الله ﷺ، فسُمِّي جعفرٌ الطَّيارَ (1). ذكر مناقب زيدٍ الحِبِّ بن حارِثةَ بن شَراحِيل بن عبد العُزّى حِبِّ رسولِ الله ﷺ، أسَرَه بنو القَيْنِ، فاشترتْه خديجةُ بنتُ خُوَيلد بأربع مئة درهم، فلما تَزوَّجها رسولُ الله ﷺ وَهبَتْه له.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4945 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه_x000D_ [التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4945 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے اور سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا آپ کے قریب ہی تھیں کہ اچانک آپ ﷺ نے سلام کا جواب دیا اور اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا، پھر ارشاد فرمایا: ”اے اسماء! یہ جعفر بن ابی طالب ہیں جو جبرائیل اور میکائیل (علیہما السلام) کے ساتھ ہیں، یہ یہاں سے گزرے تو انہوں نے ہمیں سلام کیا، پس تم بھی انہیں سلام کا جواب دو۔“ جعفر (رضی اللہ عنہ) نے یہ بھی خبر دی کہ ان کا مشرکین سے تین یا چار دن پہلے فلاں فلاں دن مقابلہ ہوا تھا، انہوں نے بتایا: ”میرا مشرکین سے سامنا ہوا تو میرے جسم کے سامنے والے حصے پر نیزوں اور تیروں کے تہتر (73) زخم آئے، پھر میں نے (اسلامی) جھنڈا اپنے دائیں ہاتھ میں تھام لیا تو وہ کاٹ دیا گیا، پھر میں نے اسے بائیں ہاتھ سے تھام لیا تو وہ بھی کاٹ دیا گیا، پس اللہ تعالیٰ نے مجھے میرے دونوں ہاتھوں کے بدلے دو پر عطا فرما دیے ہیں جن کے ذریعے میں جنت میں جبرائیل اور میکائیل کے ساتھ اڑتا ہوں اور وہاں کے پھلوں میں سے جہاں سے چاہوں کھاتا ہوں۔“ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”جعفر کو اللہ تعالیٰ نے جو خیر و برکت عطا فرمائی ہے وہ انہیں مبارک ہو۔“ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف لے گئے اور لوگوں کو اس واقعے کی خبر دی، پس لوگوں پر وہ حقیقت واضح ہو گئی جس کی خبر رسول اللہ ﷺ نے دی تھی، اسی بنا پر جعفر کا لقب «الطَّيَّار» (بہت اڑنے والا) پڑ گیا۔ رسول اللہ ﷺ کے محبوب، سیدنا زید بن حارثہ بن شراحیل بن عبدالعزی کے مناقب کا ذکر؛ جنہیں بنو القین نے قیدی بنا لیا تھا، پھر سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا نے انہیں چار سو درہم میں خریدا، اور جب رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح فرمایا تو انہوں نے زید کو آپ ﷺ کی خدمت میں ہبہ کر دیا (یعنی تحفتاً پیش کر دیا)۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5011
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وقد تقدَّم عند المصنّف برقم (5001) من طريق العباس بن محمد الدُّوري عن الحسن بن بشر. وما وقع في إسناد المصنّف هنا من تسمية الراوي عن عطاء - وهو ابن أبي رباح - بسعدان بن يحيى فهو وهمٌ ممن دون الحسن بن بشر، فإنَّ هذا الحديث معروفٌ بسعدان ...» [ترقيم الرساله 5011] [ترقيم الشركة 4976] [ترقيم العلميه 4945]