المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
وُجِدَ عَلَى جَعْفَرٍ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ جِرَاحَةً باب: سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے جسم پر ستر سے زائد زخم پائے گئے
أخبرنا الحسن بن علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني بالكوفة، حَدَّثَنَا محمد بن علي بن عَفّان العامِري، حَدَّثَنَا الحسن بن بشر بن سَلْم العِجْلي، حَدَّثَنَا سَعْدان بن يحيى، عن عطاء، عن ابن عباس، قال: بينما رسولُ الله ﷺ جالسٌ وأسماءُ بنتُ عُمَيس قريبةٌ منه إذ ردَّ السلامَ، فأشار بيدِه، ثم قال: "يا أسماءُ، هذا جعفرُ بن أبي طالبٍ مع جبريلَ وميكائيلَ، مَرُّوا فسلَّمُوا علينا، فرُدِّي عليهمُ السلامَ، وقد أخبرَ أنه لقيَ المشركين يومَ كذا وكذا - قبلُ بثلاثٍ أو أربعٍ - فقال: لقيتُ المشركين فأُصِبتُ من مَقادِيمي ثلاثًا وسبعين بين طَعْنةٍ ورَمْيةٍ، فأخذتُ اللواءَ بيدي اليُمنى فقُطِعت، ثم أخذتُه بيدي اليُسرى فقُطِعت، فعوَّضَني الله من يَدَيَّ جَناحَين أَطيرُ بهما في الجنة مع جبريلَ وميكائيلَ، فآكُلُ من ثمارِها ما شئتُ"، قالت أسماءُ: هنيئًا لجعفرٍ ما رزقه اللهُ من الخير، قال: ثم صَعِدَ رسولُ الله ﷺ المِنبرَ فأخبرَ به الناسَ، قال: فاستبانَ الناسُ بعد ذلك ما أخبرَ به رسولُ الله ﷺ، فسُمِّي جعفرٌ الطَّيارَ (1). ذكر مناقب زيدٍ الحِبِّ بن حارِثةَ بن شَراحِيل بن عبد العُزّى حِبِّ رسولِ الله ﷺ، أسَرَه بنو القَيْنِ، فاشترتْه خديجةُ بنتُ خُوَيلد بأربع مئة درهم، فلما تَزوَّجها رسولُ الله ﷺ وَهبَتْه له.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4945 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه_x000D_
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4945 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفهسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے اور سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا آپ کے قریب ہی تھیں کہ اچانک آپ ﷺ نے سلام کا جواب دیا اور اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا، پھر ارشاد فرمایا: ”اے اسماء! یہ جعفر بن ابی طالب ہیں جو جبرائیل اور میکائیل (علیہما السلام) کے ساتھ ہیں، یہ یہاں سے گزرے تو انہوں نے ہمیں سلام کیا، پس تم بھی انہیں سلام کا جواب دو۔“ جعفر (رضی اللہ عنہ) نے یہ بھی خبر دی کہ ان کا مشرکین سے تین یا چار دن پہلے فلاں فلاں دن مقابلہ ہوا تھا، انہوں نے بتایا: ”میرا مشرکین سے سامنا ہوا تو میرے جسم کے سامنے والے حصے پر نیزوں اور تیروں کے تہتر (73) زخم آئے، پھر میں نے (اسلامی) جھنڈا اپنے دائیں ہاتھ میں تھام لیا تو وہ کاٹ دیا گیا، پھر میں نے اسے بائیں ہاتھ سے تھام لیا تو وہ بھی کاٹ دیا گیا، پس اللہ تعالیٰ نے مجھے میرے دونوں ہاتھوں کے بدلے دو پر عطا فرما دیے ہیں جن کے ذریعے میں جنت میں جبرائیل اور میکائیل کے ساتھ اڑتا ہوں اور وہاں کے پھلوں میں سے جہاں سے چاہوں کھاتا ہوں۔“ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”جعفر کو اللہ تعالیٰ نے جو خیر و برکت عطا فرمائی ہے وہ انہیں مبارک ہو۔“ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف لے گئے اور لوگوں کو اس واقعے کی خبر دی، پس لوگوں پر وہ حقیقت واضح ہو گئی جس کی خبر رسول اللہ ﷺ نے دی تھی، اسی بنا پر جعفر کا لقب «الطَّيَّار» (بہت اڑنے والا) پڑ گیا۔ رسول اللہ ﷺ کے محبوب، سیدنا زید بن حارثہ بن شراحیل بن عبدالعزی کے مناقب کا ذکر؛ جنہیں بنو القین نے قیدی بنا لیا تھا، پھر سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا نے انہیں چار سو درہم میں خریدا، اور جب رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح فرمایا تو انہوں نے زید کو آپ ﷺ کی خدمت میں ہبہ کر دیا (یعنی تحفتاً پیش کر دیا)۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند ضعیف ہے، اور یہ مصنف کے ہاں نمبر (5001) میں عباس بن محمد الدوری > حسن بن بشر کے طریق سے گزر چکی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مصنف کی سند میں عطاء (بن ابی رباح) سے روایت کرنے والے کا نام "سعدان بن یحییٰ" ذکر کرنا وہم ہے جو حسن بن بشر سے نچلے راویوں سے ہوا ہے، کیونکہ یہ حدیث "سعدان بن ولید" (بیاع السابری) سے معروف ہے جیسا کہ کئی لوگوں نے حسن بن بشر سے روایت کیا ہے، بشمول عباس بن محمد الدوری کے (نمبر 5001)۔