کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اہلِ جنت کے سرداروں کا بیان
أخبرني أبو بكر محمد بن المُؤمَّل، حَدَّثَنَا الفضل بن محمد الشَّعراني، حَدَّثَنَا إبراهيم بن حمزة، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن محمد، عن يزيد بن الهادِ، عن محمد بن نافع بن عُجَير، عن أبيه نافع، عن علي بن أبي طالب، في قصة بنتِ حمزةَ، قال: فقال جعفرٌ: أنا أحقُّ بها، إنَّ خالتَها عندي، فقال رسولُ الله ﷺ: "أما أنتَ يا جعفرُ، فأشبهتَ خَلْقي وخُلُقي، وأنت من شَجَرتي التي أنا منها"، قال: قد رضيتُ يا رسول الله بذلك، "وأما الجاريةُ فأقضي بها لجعفرٍ، فإنَّ خالتَها عنده، وإنما الخالةُ أمٌّ". فكان أبو هريرة يقول: ما أظلَّتِ الخَضْراءُ على وجهٍ أحبَّ إليَّ بعدَ رسول الله ﷺ من جعفر بن أبي طالبٍ، لقولِ رسول الله ﷺ: "أشبهتَ خَلْقي وخُلُقي" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4939 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے قصے میں روایت ہے کہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میں اس (بچی) کا زیادہ حقدار ہوں کیونکہ اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے جعفر! تم صورت اور سیرت دونوں میں میرے مشابہ ہو، اور تم اس شجرہ (نسب) سے ہو جس سے میں ہوں۔“ جعفر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں اس بات پر راضی (اور خوش) ہوں۔“ پھر آپ ﷺ نے وہ بچی جعفر رضی اللہ عنہ کے سپرد کرنے کا فیصلہ سناتے ہوئے فرمایا: ”اس بچی کا فیصلہ میں جعفر کے حق میں کرتا ہوں کیونکہ اس کی خالہ اس کے پاس ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ خالہ ماں کے قائم مقام ہوتی ہے۔“ اسی بنا پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد روئے زمین پر میرے نزدیک جعفر بن ابی طالب سے زیادہ محبوب کوئی نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا تھا: ”تم صورت اور سیرت میں میرے مشابہ ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5003
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح دون قول أبي هريرة بإثره
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قول أبي هريرة بإثره، فلم يرد في هذه الطريق إلّا عند المصنِّف، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم ولكنه اختُلِف فيه على عبد العزيز بن محمد - وهو الدَّراوردي - فرواه عنه إبراهيم بن حمزة وجماعةٌ كما جاء في رواية المصنّف هنا، وخالفهم أبو عامر العَقَدي عبد ...» [ترقيم الرساله 5003] [ترقيم الشركة 4969] [ترقيم العلميه 4939]
أخبرني مُكرَم بن أحمد القاضي، حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي العَوّام الرِّيَاحي، حَدَّثَنَا سَعْد بن عبد الحميد، حَدَّثَنَا عبد الله بن زياد اليَمَامي، عن عِكْرمة بن عمار، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن أنس بن مالك، أنَّ رسول الله ﷺ، قال: "نحن بنو عبد المُطَّلب سادةُ أهلِ الجنةِ، أنا وعليٌّ وجعفرٌ وحمزةُ والحسنُ والحسينُ والمَهديُّ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4940 - ذا موضوع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہم عبدالمطلب کی اولاد اہل جنت کے سردار ہیں، (یعنی) میں، علی، جعفر، حمزہ، حسن، حسین اور مہدی۔ (رضی اللہ عنہم اجمعین)“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5004
تخریج حدیث «موضوع كما قال الذهبي في "التلخيص" وكذلك أنكره ابن كثير في "البداية والنهاية" 19/ 65، والحملُ فيه على عبد الله بن زياد اليمامي، فقد قال عنه البخاري في "تاريخه الكبير" 5/ 95: منكر الحديث.» [ترقيم الرساله 5004] [ترقيم الشركة 4970] [ترقيم العلميه 4940]
أخبرني علي بن عبد الرحمن بن عيسى السَّبِيعيّ بالكوفة، حَدَّثَنَا الحُسين بن الحَكَم الحِبَري، حَدَّثَنَا الحسن بن الحسين العُرَني، حَدَّثَنَا أجْلَحُ بن عبد الله، عن الشَّعْبي، عن جابر، قال: لما قَدِمَ رسولُ الله مِن خَيْبَرَ قدم جعفرٌ من الحبشةِ تلقّاهُ رسولُ الله ﷺ فقبَّل جَبْهتَه، ثم قال: "واللهِ ما أدري بأيِّهما أنا أفرَحُ: بفَتحِ خَيْبر، أم بِقُدُومِ جعفر؟ " (1) أرسلَه إسماعيلُ بن أبي خالد وزكريا بن أبي زائدة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ خیبر سے واپس تشریف لائے تو اسی وقت جعفر رضی اللہ عنہ بھی حبشہ سے واپس آئے، رسول اللہ ﷺ ان سے ملے اور ان کی پیشانی کا بوسہ لیا، پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ مجھے کس بات کی زیادہ خوشی ہے؛ فتحِ خیبر کی یا جعفر کی آمد کی؟“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5005
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحسن بن الحسين العُرَني، وقد تابعه أبو غسان النَّهْدي فيما تقدَم برقم (4295).» [ترقيم الرساله 5005] [ترقيم الشركة 4971]
فيما حدَّثَناه عليُّ بن عيسى الحِيري، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي طالب، حَدَّثَنَا ابن أبي عُمر، حَدَّثَنَا سفيان، عن ابن أبي خالد وزكريا، عن الشَّعْبي، قال: قَدِمَ رسولُ الله ﷺ من خيبرَ، فذكرَ الحديثَ (2).
هذا حديثٌ صحيحٌ، إنما ظَهَر بمثل هذا الإسنادِ الصحيح مرسلًا، وقد وصله أجْلَحُ بن عبد الله.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4941 - مرسلا
حافظ طلحہ بابر
امام شعبی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خیبر سے تشریف لائے، پھر انہوں نے سابقہ حدیث ذکر کی۔
یہ حدیث صحیح ہے، اس صحیح سند کے ساتھ یہ روایت مرسل ظاہر ہوئی ہے لیکن اجلح بن عبداللہ نے اسے موصولاً (سند کے ساتھ) بیان کیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5006
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره كسابقه
تخریج حدیث «حسن لغيره كسابقه، وهذا إسناد رجاله ثقات لكنه مرسلٌ. سفيان: هو ابن عيينة، وابن أبي خالد: هو إسماعيل، وزكريا: هو ابن أبي زائدة.» [ترقيم الرساله 5006] [ترقيم الشركة 4972] [ترقيم العلميه 4941]
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بهَمَذان، حَدَّثَنَا هلال بن العلاء الرَّقّي، حَدَّثَنَا عبد الله بن رجاء، حَدَّثَنَا المَسعُوديُّ، عن عَدِيّ بن ثابت، عن أبي بُردةَ، عن أبي موسى، قال: لقيَ عمرُ أسماءَ بنتَ عُمَيسٍ، فقال: أنتم نِعْمَ القومُ، لولا أنكم سُبِقتُم بالهجرة، فنحن أفضلُ منكم، [فقالت] (1): كنتم (2) مع رسولِ الله ﷺ يَحمِلُ راجِلَكُم، ويُعلّم جاهِلَكم، ففررنا بدِينِنا! فقالت: لستُ براجعةٍ حتَّى أدخُلَ على رسول الله ﷺ، فدخلَتْ عليه، فقالت: يا رسولَ الله، إني لقيتُ عُمرَ، فقال: كذا وكذا، فقال: "بلى، لكم هِجْرتانِ: هِجْرتُكم إلى الحَبَشة، وهِجْرتُكم إلى المدينة" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4942 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے ہوئی تو انہوں نے کہا: ”تم لوگ کتنے اچھے ہوتے اگر تم ہجرت میں ہم سے سبقت لے جاتے، لہٰذا ہم تم سے افضل ہیں۔“ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: ”تم لوگ تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (مدینہ میں) تھے، وہ تمہارے پیدل چلنے والوں کو سواری دیتے تھے اور تمہارے جاہلوں کو علم سکھاتے تھے، جبکہ ہم نے اپنے دین کی خاطر (غربت و تنہائی میں) ہجرت کی!“ پھر انہوں نے کہا: ”میں اس وقت تک واپس نہیں جاؤں گی جب تک رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر نہ ہو جاؤں۔“ پس وہ آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوئیں اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میری ملاقات عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے ایسی ایسی بات کہی ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تمہارے لیے دو ہجرتوں کا ثواب ہے؛ تمہاری ہجرت حبشہ کی طرف اور تمہاری ہجرت مدینہ کی طرف۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5007
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل هلال بن العلاء الرَّقي، وهو متابع، وسماعُ عبد الله بن رجاء من المسعودي - واسمه عبد الرحمن بن عبد الله بن عُتبة - قبل اختلاطه، على أنَّ المسعوديَّ مُتابعٌ أيضًا. أبو بُردة: هو ابن أبي موسى الأشعري.» [ترقيم الرساله 5007] [ترقيم الشركة 4973] [ترقيم العلميه 4942]