المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ سَادَاتِ أَهْلِ الْجَنَّةِ باب: اہلِ جنت کے سرداروں کا بیان
حدیث نمبر: 5006
فيما حدَّثَناه عليُّ بن عيسى الحِيري، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي طالب، حَدَّثَنَا ابن أبي عُمر، حَدَّثَنَا سفيان، عن ابن أبي خالد وزكريا، عن الشَّعْبي، قال: قَدِمَ رسولُ الله ﷺ من خيبرَ، فذكرَ الحديثَ (2).
هذا حديثٌ صحيحٌ، إنما ظَهَر بمثل هذا الإسنادِ الصحيح مرسلًا، وقد وصله أجْلَحُ بن عبد الله.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4941 - مرسلاحافظ طلحہ بابر
امام شعبی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خیبر سے تشریف لائے، پھر انہوں نے سابقہ حدیث ذکر کی۔
یہ حدیث صحیح ہے، اس صحیح سند کے ساتھ یہ روایت مرسل ظاہر ہوئی ہے لیکن اجلح بن عبداللہ نے اسے موصولاً (سند کے ساتھ) بیان کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حسن لغيره كسابقه، وهذا إسناد رجاله ثقات لكنه مرسلٌ. سفيان: هو ابن عيينة، وابن أبي خالد: هو إسماعيل، وزكريا: هو ابن أبي زائدة.
درجۂ حدیث: (2) یہ بھی پچھلی کی طرح "حسن لغیرہ" ہے، اور اس سند کے رجال "ثقہ" ہیں لیکن یہ "مرسل" ہے۔ (سند میں موجود) سفیان سے مراد ابن عیینہ، ابن ابی خالد سے مراد اسماعیل، اور زکریا سے مراد ابن ابی زائدہ ہیں۔
درجۂ حدیث: (2) یہ بھی پچھلی کی طرح "حسن لغیرہ" ہے، اور اس سند کے رجال "ثقہ" ہیں لیکن یہ "مرسل" ہے۔ (سند میں موجود) سفیان سے مراد ابن عیینہ، ابن ابی خالد سے مراد اسماعیل، اور زکریا سے مراد ابن ابی زائدہ ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5006 سے ماخوذ ہے۔