کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا حارثہ بن نعمان (رضی اللہ عنہ) کے مناقب کا تذکرہ۔ وہ ابنِ نقع ہیں اور بنو غنم بن مالک سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی کنیت ابو عبداللہ ہے۔ وہ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے اور اسی میں مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے، اللہ ان سے راضی ہو۔
أخبرني عبد الله بن محمد بن زياد، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق، حَدَّثَنَا أبو موسى، حدثني أبو المُساوِر الفضل بن مُساوِرٍ، حَدَّثَنَا أبو عَوانةَ، عن الأعمش، حَدَّثَنَا أبو صالح، عن جابر بن عبد الله قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "اهتزَّ عرشُ الرحمن لمَوتِ سَعْدِ بن مُعاذٍ" قال: فقال رجلٌ لجابر: فإنَّ البراءَ يقولُ: اهتَزَّ السَّريرُ، فقال: إنه كان بين هذَينِ الحيَّينِ الأوسِ والخزرجِ ضَغَائنُ، سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "اهتَزَّ عرشُ الرحمنِ لمَوتِ سَعْدِ بن معاذٍ" (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب حارثة بن النعمان وهو ابن نُفيع أحد بني غَنْم بن مالك بن النجَّار، يُكنى أبا عبد الله، شهد بدرًا فاستُشهِد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4928 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4928 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”سعد بن معاذ کی موت پر عرشِ رحمان ہل اٹھا“، ایک شخص نے جابر سے کہا کہ براء (بن عازب) تو کہتے ہیں کہ (جنازے کا) تخت ہلا تھا، تو جابر نے جواب دیا: ان دونوں قبیلوں اوس اور خزرج کے درمیان کچھ پرانی رنجشیں تھیں (جس کی وجہ سے بات بدلی گئی)، میں نے تو رسول اللہ ﷺ کو یہی فرماتے سنا کہ ”سعد بن معاذ کی موت پر عرشِ رحمان ہل اٹھا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن سُلَيمان المَوصِلي، حَدَّثَنَا علي بن حَرْب، حَدَّثَنَا سفيان، عن الزُّهري، عن عَمْرة، عن عائشة، أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال: "دخَلتُ الجنةَ فسمعتُ فيها قراءةً، فقلتُ: مَن هذا؟ قالوا: حارثةُ بن النُّعمان، كذلِكُم البِرُّ، كذلِكُم البِرُّ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4929 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4929 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں قرآت کی آواز سنی، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ فرشتوں نے جواب دیا: یہ حارثہ بن نعمان ہیں، (نیکی کا صلہ) ایسا ہی ہوتا ہے، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا بدلہ ایسا ہی ہوتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔