کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا جعفر بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — آپ مؤتہ میں آٹھ ہجری میں شہید ہوئے
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن هشام بن مَلّاس (1)، حَدَّثَنَا مروان بن معاوية، حَدَّثَنَا حُميد، عن أنس. وحدثنا علي بن حَمْشَاذَ - واللفظُ له - حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا أبو الوليد، حَدَّثَنَا سليمان بن المغيرة، عن ثابت، عن أنس قال: انطلَقَ حارثةُ ابن عَمّتي نَظارًا يومَ بدرٍ، وما انطلَقَ لقتالٍ، فأصابَه سهمٌ فقتلَه، فجاءت عَمّتي إلى رسولِ الله ﷺ، فقالت: يا رسول الله، ابني حارثةُ، إن يكن في الجنة أصبِرْ واحتَسِبْ، وإلَّا فترى ما أصنَعُ، فقال: "يا أمَّ حارثة، إنها جِنانٌ كثيرةٌ، وإنَّ حارثةَ في الفِردَوس الأعلَى" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة التي رواها ثابتٌ، إنما اتفقا (1) على رواية حُميد عن أنس مختصرًا. ذكرُ مناقب جعفر بن أبي طالب بن عبد المُطلّب بن هاشم قُتل بمُؤتة شهيدًا في سنة ثمان من الهجرة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4930 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة التي رواها ثابتٌ، إنما اتفقا (1) على رواية حُميد عن أنس مختصرًا. ذكرُ مناقب جعفر بن أبي طالب بن عبد المُطلّب بن هاشم قُتل بمُؤتة شهيدًا في سنة ثمان من الهجرة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4930 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میری پھوپھی کے بیٹے حارثہ بدر کے دن صرف مشاہدے کے لیے نکلے تھے، قتال کے لیے نہیں، لیکن انہیں ایک تیر لگا جس سے وہ شہید ہو گئے، میری پھوپھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا بیٹا حارثہ، اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کروں گی اور ثواب کی امید رکھوں گی، ورنہ پھر آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام حارثہ! وہاں تو بہت سی جنتیں ہیں اور بے شک حارثہ جنت الفردوس کے اعلیٰ مقام پر ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ثابت کی روایت کردہ اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ حمید کی انس سے روایت کردہ مختصر حدیث پر وہ متفق ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ثابت کی روایت کردہ اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ حمید کی انس سے روایت کردہ مختصر حدیث پر وہ متفق ہیں۔
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبَهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر، حدثني عبد الله بن محمد بن عُمر بن علي، عن أبيه، قال: ضربَ جعفرَ بن أبي طالب رجلٌ من الروم قَطَعَه بنِصفَين، فوقَعَ أحدُ نِصفَيه في كَرْمٍ، فوُجِد في نِصفِه ثلاثون أو بِضعٌ وثلاثون جُرْحًا. وهاجر إلى أرض الحَبَشة في الهجرة الثانية، ومعه امرأتُه أسماءُ بنت عُمَيس، فلم يَزَلْ بأرضِ الحبشة حتَّى هاجَرَ رسولُ الله ﷺ إلى المدينة، ثم هاجَر إليه وهو بخَيْبَر، فقال رسولُ الله ﷺ: "لا أدري بأيِّهما أفرحُ: بفتحِ خَيبرَ، أو بقُدومِ جعفرٍ؟ ". قال: وكان جعفرٌ يُكنى أبا عَبد الله (2).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ایک رومی شخص نے اس زور سے ضرب لگائی کہ ان کے دو ٹکڑے ہو گئے، ان کا ایک آدھا حصہ انگوروں کے باغ میں گرا اور ان کے جسم کے اس حصے میں تیس یا اس سے کچھ زائد زخم پائے گئے۔ آپ نے دوسری ہجرت کے موقع پر اپنی اہلیہ اسماء بنت عمیس کے ہمراہ حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور وہاں اس وقت تک مقیم رہے جب تک رسول اللہ ﷺ مدینہ ہجرت نہ کر گئے، پھر آپ ﷺ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جب آپ ﷺ خیبر میں تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم کہ میں ان دونوں میں سے کس بات پر زیادہ خوش ہوں: فتحِ خیبر پر یا جعفر کی آمد پر؟“ راوی کہتے ہیں کہ جعفر کی کنیت ابوعبداللہ تھی۔
حَدَّثَنَا أبو محمد المُزَني، حَدَّثَنَا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حَدَّثَنَا عبد الله بن بَرَّاد الأشعَري، حَدَّثَنَا عبد الله بن إدريس، عن محمد بن إسحاق، عن يحيى بن عَبّاد بن عبد الله بن الزُّبير، عن أبيه، عن جدِّه، قال: أخبرني أبي الذي كان أرضعَني من بني مُرّةَ، قال: كأني أنظُر إلى جعفرِ بن أبي طالب يومَ مُؤتةَ نَزَل عن فرسٍ له فعَرْقَبَها، ثم مضى فقاتَل حتَّى قُتِل (1).
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن عباد بن عبداللہ اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے بنو مرہ کے اس شخص نے بتایا جس نے مجھے دودھ پلایا تھا کہ گویا میں جعفر بن ابی طالب کو غزوہ موتہ کے دن دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے گھوڑے سے اترے، اس کی کوچیں کاٹ دیں اور پھر دشمن کی طرف بڑھے اور قتال کیا یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔