کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — منافقین کا آپ کی جنازہ پر کہنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جواب
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا يزيد بن هارون، أخبرنا إسماعيل بن أبي خالد، عن إسحاق بن راشد، عن أسماء بنت يزيد بن السَّكَن الأنصارية، قالت: لما ماتَ سعدُ بن مُعاذٍ صاحَتْ أمُّه، فقال لها رسولُ الله ﷺ: "ألا يَرقأُ دمعُكِ ويذهبُ حُزنُك، فإنَّ ابنَكِ أولُ مَن ضَحِك اللهُ إليه، واهتزَّ له العَرشُ" (1). صحيح الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4925 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4925 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو ان کی والدہ چیخ مار کر روئیں، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا تمہارے آنسو خشک نہیں ہوں گے اور تمہارا غم دور نہیں ہوگا؟ تمہارا بیٹا وہ پہلا شخص ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے (خوشی سے) تبسم فرمایا اور اس کے لیے عرش ہل اٹھا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔
أخبرني عبد الله بن محمد بن علي بن زياد، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الإمام، حَدَّثَنَا محمد بن يحيى - وقد كان أبو موسى حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا به عنه في الرَّحْلة الأَوَّلة، فلما قدمتُ سألتُ محمد بن يحيى، فحدثني به - قال: حَدَّثَنَا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن قَتَادة، عن أنس قال: لما حُمِلَت جَنازةُ سعد بن مُعاذ قال المنافقون: ما أخفَّ جنازتَه، وما ذاك إِلَّا لِحُكمِه في بني قُرَيظة، فبلغ ذلك النَّبِيَّ ﷺ، فقال: "لا، ولكنَّ الملائكةَ كانت تَحمِلُه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4926 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4926 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقین کہنے لگے: ان کا جنازہ کتنا ہلکا ہے، اور یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے بنو قریظہ کے بارے میں (سخت) فیصلہ کیا تھا، جب یہ بات نبی کریم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ فرشتے ان کا جنازہ اٹھائے ہوئے تھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا إبراهيم بن عبد الله السَّعدي، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو بن عَلْقمة اللَّيثي، عن أبيه، عن جدِّه، عن عائشة قالت: قَدِمْنا من سفرٍ، فتَلقَّونا بذي الحُلَيفة، وكان غِلْمانُ الأنصارِ يُتلَقَّون بهم إذا قَدِمُوا، فَلَقُوا أُسَيدَ بن حُضَير، فنَعَوا إليه امرأتَه، فتَقنَّعَ يبكي، قالت: فقلتُ له: سبحانَ الله! أنتَ من أصحابِ رسول الله ﷺ، ولك من السابقةِ ما لكَ، تبكي على امرأة؟! فكَشَفَ عن رأسِه، فقال: صدقتِ لعَمْرُو اللهِ، واللهِ لَيَحِقُّ لي أن لا أبكيَ على أحدٍ بعد سعد بن معاذ، وقد قال رسول الله ﷺ ما قالَ قالت له: وما قال له؟ قال: "لقد اهتزّ العرشُ لِوفاةِ سَعْدِ بن مُعاذٍ". قالت: وهو يَسيرُ بيني وبين رسولِ الله ﷺ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4927 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4927 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر سے واپس آ رہے تھے تو ذوالحلیفہ کے مقام پر لوگ ہمارے استقبال کے لیے آئے، انصار کے لڑکے استقبال کے لیے آیا کرتے تھے، وہاں ان کی ملاقات سیدنا اسید بن حضیر سے ہوئی، لوگوں نے انہیں ان کی اہلیہ کی وفات کی خبر دی تو وہ چادر اوڑھ کر رونے لگے، میں نے ان سے کہا: سبحان اللہ! آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں اور آپ کا اسلام میں اتنا بڑا مقام ہے، پھر بھی آپ ایک عورت پر رو رہے ہیں؟ انہوں نے اپنے سر سے چادر ہٹائی اور کہا: تم نے سچ کہا، اللہ کی زندگی کی قسم! مجھے زیب دیتا ہے کہ میں سعد بن معاذ کے بعد کسی پر نہ روؤں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں وہ فرمایا جو فرمایا، میں نے پوچھا: آپ ﷺ نے ان کے بارے میں کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا: (آپ ﷺ نے فرمایا تھا:) ”سعد بن معاذ کی وفات پر عرش الٰہی ہل اٹھا“، عائشہ کہتی ہیں کہ اس وقت وہ (سعد) میرے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان چلا کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔