حدیث نمبر: 4952
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان، حدثنا أبو أسامة، حدثنا أسامة بن زيد، عن نافع عن ابن عمر، قال: رجعَ رسول الله ﷺ يوم أُحدٍ، فسمع نساءَ بني عبد الأشْهَلِ يَبكينَ على هَلْكاهُنَّ، فقال: "لكنَّ حمزةَ لا بواكيَ له" (2).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب جنگِ احد سے واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے بنو عبد الاشہل کی عورتوں کے رونے کی آواز سنی جو اپنے مقتولین پر رو رہی تھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لیکن حمزہ کے لیے تو کوئی رونے والی نہیں ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4952
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد: وهو الليثي. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة.» [ترقيم الرساله 4952] [ترقيم الشركة 4919]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد: وهو الليثي. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند اسامہ بن زید - جو کہ اللیثی ہیں - کی وجہ سے "حسن" ہے۔ سند میں موجود "ابو اسامہ" سے مراد حماد بن اسامہ ہیں۔
وقد تقدَّم برقم (4944) من طريق عثمان بن عمر عن أسامة بن زيد.
تفصیلِ روایت: یہ روایت نمبر (4944) میں عثمان بن عمر کے طریق سے، انہوں نے اسامہ بن زید سے روایت کرتے ہوئے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4952 سے ماخوذ ہے۔