المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
اسْتُشْهِدَ حَمْزَةُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً باب: سیدنا حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ غزوۂ اُحد کے دن چون برس کی عمر میں شہید ہوئے
حدیث نمبر: 4954
حدثنا أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا محمد بن عبد الوهاب الحضرمي، حدثنا هارون بن إسحاق الهَمْداني، حدثنا عبد الله بن نُمير، عن أبي حمّاد الحَنَفي، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل عن جابر، قال: لما جَرَّدَ رسول الله ﷺ حمزةَ بكي، فلما رأى مِثالَه شَهَقَ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4893 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حمزہ کے جسدِ مبارک سے کپڑا ہٹایا تو آپ ﷺ رو پڑے، اور جب آپ ﷺ نے ان کے جسم کا یہ حال (مثلہ کیا ہوا) دیکھا تو آپ ﷺ کی ہچکی بندھ گئی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لضعف أبي حماد والحَنَفي - واسمه المغفَّل بن صدقة - وعبد الله بن محمد بن عقيل، وتسمية شيخ أحمد بن يعقوب الثقفي هنا بمحمد بن عبد الوهاب الحضرمي وهمٌ، والصحيح أنه محمد بن عبد الله الحضرمي، وهو المعروف بمطيَّن، وقد روى الطبراني هذا الخبر في "معجمه الكبير" (2932) عنه بهذا الإسناد. وقد تقدَّم ضمن حديث مطول برقم (2589) وسيأتي برقم (4961) من طريق أبي إسحاق الفزاري عن أبي حماد.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند تین راویوں کی وجہ سے "ضعیف" ہے: ابو حماد، الحنفی (جن کا نام مغفل بن صدقہ ہے)، اور عبداللہ بن محمد بن عقیل۔
فنی نکتہ / علّت: احمد بن یعقوب الثقفی کے شیخ کا نام یہاں "محمد بن عبدالوہاب الحضرمی" ذکر کرنا وہم ہے، صحیح نام "محمد بن عبداللہ الحضرمی" ہے جو "مطین" کے لقب سے معروف ہیں، اور طبرانی نے "الکبیر": (2932) میں انہی سے اسی سند کے ساتھ یہ خبر روایت کی ہے۔ یہ روایت ایک طویل حدیث کے ضمن میں نمبر (2589) پر گزر چکی اور عنقریب نمبر (4961) میں ابو اسحاق الفزاری کے طریق سے ابو حماد سے آئے گی۔
وسيأتي ذكر التمثيل بحمزة بعده من حديث أبي هريرة.
تفصیلِ روایت: حمزہ ؓ کے "مثلۂ" (لاش بگاڑنے) کا ذکر اس کے بعد ابو ہریرہ ؓ کی حدیث میں آئے گا۔
وتقدَّم بالأرقام (1367) و (2595) و (4948) من حديث أنس بن مالك، وبرقم (3408) من حديث أبي بن كعب.
حوالہ / مصدر: یہ مضمون نمبر (1367)، (2595) اور (4948) میں انس بن مالک ؓ کی حدیث سے، اور نمبر (3408) میں ابی بن کعب ؓ کی حدیث سے گزر چکا ہے۔
وسيأتي برقم (4956) من حديث ابن عباس.
تفصیلِ روایت: اور عنقریب نمبر (4956) میں ابن عباس ؓ کی حدیث سے بھی آئے گا۔
مثاله، أي: صفة التمثيل به.
فنی نکتہ / لغت: "مثالہ" سے مراد لاش بگاڑنے (مثلۂ کرنے) کی کیفیت ہے۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند تین راویوں کی وجہ سے "ضعیف" ہے: ابو حماد، الحنفی (جن کا نام مغفل بن صدقہ ہے)، اور عبداللہ بن محمد بن عقیل۔
فنی نکتہ / علّت: احمد بن یعقوب الثقفی کے شیخ کا نام یہاں "محمد بن عبدالوہاب الحضرمی" ذکر کرنا وہم ہے، صحیح نام "محمد بن عبداللہ الحضرمی" ہے جو "مطین" کے لقب سے معروف ہیں، اور طبرانی نے "الکبیر": (2932) میں انہی سے اسی سند کے ساتھ یہ خبر روایت کی ہے۔ یہ روایت ایک طویل حدیث کے ضمن میں نمبر (2589) پر گزر چکی اور عنقریب نمبر (4961) میں ابو اسحاق الفزاری کے طریق سے ابو حماد سے آئے گی۔
وسيأتي ذكر التمثيل بحمزة بعده من حديث أبي هريرة.
تفصیلِ روایت: حمزہ ؓ کے "مثلۂ" (لاش بگاڑنے) کا ذکر اس کے بعد ابو ہریرہ ؓ کی حدیث میں آئے گا۔
وتقدَّم بالأرقام (1367) و (2595) و (4948) من حديث أنس بن مالك، وبرقم (3408) من حديث أبي بن كعب.
حوالہ / مصدر: یہ مضمون نمبر (1367)، (2595) اور (4948) میں انس بن مالک ؓ کی حدیث سے، اور نمبر (3408) میں ابی بن کعب ؓ کی حدیث سے گزر چکا ہے۔
وسيأتي برقم (4956) من حديث ابن عباس.
تفصیلِ روایت: اور عنقریب نمبر (4956) میں ابن عباس ؓ کی حدیث سے بھی آئے گا۔
مثاله، أي: صفة التمثيل به.
فنی نکتہ / لغت: "مثالہ" سے مراد لاش بگاڑنے (مثلۂ کرنے) کی کیفیت ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4954 سے ماخوذ ہے۔