کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں سب سے پہلے جمعہ قائم کرنے والے تھے
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطّة، حدثنا الحسن بن جَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، حدثني عبد الرحمن بن أبي الرِّجال، قال: مات أسعدُ بن زُرَارةً في شوّال على رأس تسعة أشهر (1) من الهجرة، ومسجدُ رسولِ الله ﷺ يُبنى يومئذ، وذلك قبل بدر، فجاءت بنو النجار إلى رسول الله - صلى الله صليه وسلم -، فقالوا: قد ماتَ نَقِيبُنا فنَقِّب علينا، فقال رسول الله ﷺ: "أنا نقيبكم" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4857 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4857 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عبدالرحمن بن ابی الرجال سے روایت ہے کہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہجرت کے نویں مہینے کے آغاز پر ماہِ شوال میں ہوئی، اس وقت رسول اللہ ﷺ کی مسجد تعمیر ہو رہی تھی اور یہ جنگِ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے، چنانچہ بنو نجار رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ”ہمارے نقیب (سردار) وفات پا چکے ہیں، پس آپ ہمارے لیے کوئی نقیب مقرر فرما دیں“، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہارا نقیب ہوں۔“
قال ابن عُمر: وحدثنا عبد الجبار بن عُمارة، عن عبد الله بن أبي بكر بن عمرو بن حَزْم، قال: أولُ من دُفن بالبقيع أسعدُ بن زُرارةَ (3).
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ جنت البقیع میں سب سے پہلے دفن ہونے والے شخص اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ تھے۔
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني محمد بن أبي أُمامة بن سهل بن حُنَيف، عن أبيه أبي أُمامة، أنَّ عبد الرحمن بن كعب بن مالك أخبره قال: كنتُ قائدَ أَبي بعدما ذهبَ بصرُه، فكان لا يسمعُ الأذانَ بالجُمعة إلَّا قال: رحمةُ الله على أسعدَ بن زُرارةَ، فقلتُ بعد حينٍ: لو سألتُ أبي: ما شأنُه إذا سمع الأذانَ قال: رحمةُ الله على أسعدَ بن زُرارةَ؟ فقلت: يا أبتِ إنه لتُعجِبُني صلاتُك على أبي أُمامة كلما سمعتَ الأذانَ بالجمعة، قال: أيْ بُنيّ، كان أولَ من جَمَّع لنا الجمعةَ بالمدينةِ في هَزْمٍ من حَرّة بني بَيَاضةَ في نَقيعٍ (1) يقالُ له: الخَضِمات، قلت: وكم أنتم يومئذٍ؟ قال: أربعون رجلًا (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4858 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4858 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عبدالرحمن بن کعب بن مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں اپنے والد کی بینائی ختم ہونے کے بعد ان کا راہبر تھا، جب بھی وہ جمعہ کی اذان سنتے تو فرماتے: ”اسعد بن زرارہ پر اللہ کی رحمت ہو“، میں نے کچھ عرصہ بعد سوچا کہ میں اپنے والد سے پوچھوں کہ وہ اذان سنتے ہی اسعد بن زرارہ کے لیے رحمت کی دعا کیوں کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا: ”اے اباجان! جب بھی آپ جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو ابو امامہ (اسعد) کے لیے آپ کی یہ دعا مجھے بھلی معلوم ہوتی ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اے میرے پیارے بیٹے! وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مدینہ میں ہمارے لیے حرہ بنی بیاضہ کے ایک ہموار مقام پر جسے ”نقیع الخضمات“ کہا جاتا ہے، جمعہ کی نماز قائم کی تھی“، میں نے پوچھا: ”اس دن آپ کی تعداد کتنی تھی؟“ انہوں نے کہا: ”چالیس مرد۔“
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا أبو المثنَّى ومحمد بن أيوب، قالا: حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُرَيع، عن مَعمَر، عن الزُّهْري، عن أنس: أنَّ النبيَّ ﷺ كَوَى أسعد بن زُرَارة من الشَّوكة (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4859 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4859 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کو ”شوکہ“ (ایک قسم کی وبائی تکلیف) کی وجہ سے داغا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔