حدیث نمبر: 4919
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني محمد بن أبي أُمامة بن سهل بن حُنَيف، عن أبيه أبي أُمامة، أنَّ عبد الرحمن بن كعب بن مالك أخبره قال: كنتُ قائدَ أَبي بعدما ذهبَ بصرُه، فكان لا يسمعُ الأذانَ بالجُمعة إلَّا قال: رحمةُ الله على أسعدَ بن زُرارةَ، فقلتُ بعد حينٍ: لو سألتُ أبي: ما شأنُه إذا سمع الأذانَ قال: رحمةُ الله على أسعدَ بن زُرارةَ؟ فقلت: يا أبتِ إنه لتُعجِبُني صلاتُك على أبي أُمامة كلما سمعتَ الأذانَ بالجمعة، قال: أيْ بُنيّ، كان أولَ من جَمَّع لنا الجمعةَ بالمدينةِ في هَزْمٍ من حَرّة بني بَيَاضةَ في نَقيعٍ (1) يقالُ له: الخَضِمات، قلت: وكم أنتم يومئذٍ؟ قال: أربعون رجلًا (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4858 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

عبدالرحمن بن کعب بن مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں اپنے والد کی بینائی ختم ہونے کے بعد ان کا راہبر تھا، جب بھی وہ جمعہ کی اذان سنتے تو فرماتے: ”اسعد بن زرارہ پر اللہ کی رحمت ہو“، میں نے کچھ عرصہ بعد سوچا کہ میں اپنے والد سے پوچھوں کہ وہ اذان سنتے ہی اسعد بن زرارہ کے لیے رحمت کی دعا کیوں کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا: ”اے اباجان! جب بھی آپ جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو ابو امامہ (اسعد) کے لیے آپ کی یہ دعا مجھے بھلی معلوم ہوتی ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اے میرے پیارے بیٹے! وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مدینہ میں ہمارے لیے حرہ بنی بیاضہ کے ایک ہموار مقام پر جسے ”نقیع الخضمات“ کہا جاتا ہے، جمعہ کی نماز قائم کی تھی“، میں نے پوچھا: ”اس دن آپ کی تعداد کتنی تھی؟“ انہوں نے کہا: ”چالیس مرد۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4919
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل ابن إسحاق: وهو محمد بن إسحاق صاحب السيرة.» [ترقيم الرساله 4919] [ترقيم الشركة 4886] [ترقيم العلميه 4858]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) قال ابن الأثير في "جامع الأصول" 5/ (696): وقد يصحفه بعض الرواة فيرويه "البقيع" بالباء، وإنما البقيع مقبرة بالمدينة، وحرَّة بني بياضة على ميل من المدينة.
نوٹ / توضیح: ابن الاثیر نے "جامع الاصول" (696/5) میں فرمایا: بعض راوی اس نام میں تصحیف (غلطی) کرتے ہوئے اسے "باء" کے ساتھ "البقیع" روایت کر دیتے ہیں۔ حالانکہ بقیع تو مدینہ کا قبرستان ہے، اور (یہاں مراد) حرہ بنی بیاضہ ہے جو مدینہ سے ایک میل کی دوری پر ہے۔
(2) إسناده حسن من أجل ابن إسحاق: وهو محمد بن إسحاق صاحب السيرة.
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے، محمد بن اسحاق کی وجہ سے، جو کہ صاحبِ سیرت ہیں۔
وقد تقدَّم عنا عند المصنف برقم (1051) من طريق جَرير بن حازم عن محمد بن إسحاق.
حوالہ / مصدر: یہ روایت مصنف (حاکم) کے ہاں پہلے نمبر (1051) پر جریر بن حازم عن محمد بن اسحاق کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4919 سے ماخوذ ہے۔