کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان — نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خبر کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائی جائے گی
حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق وعلي بن حَمْشاد، قالا: حدثنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثنا أبو موسى، سمعتُ الحسن يقول: استقبلَ الحَسنُ بن علي معاوية بكتائب أمثال الجبال، فقال عمرو بن العاص: والله إني لأرى كتائب لا تُولِّي أو تقتل أقرانها، فقال معاوية - وكان خير الرجُلين -: أرأيت إن قَتلَ هؤلاء هؤلاء، مَن لي بدمائهم؟ من لي بأمورهم؟ من لي بنسائهم؟ قال: فبعث معاوية عبد الرحمن بن سَمُرة بن حبيب بن عبد شمس - قال سفيان: وكانت له صحبةٌ - فصالح الحسنُ معاوية وسلَّم الأمر له، وبايعه بالخلافة على شروطٍ ووثائق، وحَمَلَ معاوية إلى الحسن مالًا عظيمًا يقال: خمس مئة ألف ألف درهم، وذلك في جمادى الأولى سنة إحدى وأربعين، وإنما كان وَلِيَ إلى أن سَلَّمَ الأمرَ (1) لمعاوية سبعة أشهرٍ وأحد عشر يومًا (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4808 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4808 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حسن (بصری) سے روایت ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پہاڑوں جیسے لشکر لے کر معاویہ (رضی اللہ عنہ) کے مقابلے پر آئے، تو عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں ایسے لشکر دیکھ رہا ہوں جو پیٹھ نہیں پھیریں گے یہاں تک کہ اپنے مد مقابل کو قتل کر دیں، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر یہ ایک دوسرے کو قتل کر دیں گے تو ان کے خون (کے قصاص)، ان کے معاملات اور ان کی بیوہ عورتوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری مجھ پر کون اٹھائے گا؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن بن سمرہ بن حبیب بن عبد شمس رضی اللہ عنہ کو بھیجا (سفیان کہتے ہیں کہ وہ صحابی تھے)، پس سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی اور اقتدار ان کے سپرد کر دیا، اور بعض شرائط اور عہد و پیمان پر ان کی خلافت کی بیعت کر لی، اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی طرف ایک خطیر رقم روانہ کی جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ پچاس کروڑ درہم تھی، یہ واقعہ جمادی الاولیٰ 41 ہجری کا ہے، اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کی مدت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کرنے تک سات ماہ اور گیارہ دن تھی۔
فأخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان والحُسين بن الحسن، قالا: حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا أشعث بن عبد الملك، عن الحسن عن أبي بَكْرة، قال: قال رسول الله ﷺ الحسن بن علي: "إِنَّ ابني هذا سيِّدٌ، لعل الله أن يُصلِحَ به بين فئتين من المسلمين عظيمتين" (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے متعلق فرمایا: ”میرا یہ بیٹا سردار ہے، امید ہے کہ اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کروا دے گا۔“
وحدثنا محمد بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا عفان وسليمان بن حرب، قالا حدثنا حماد بن زيد، حدثنا علي بن زيد، عن الحسن، عن أبي بكرة قال: بَيْنا رسول الله ﷺ يخطُب الناس إذ جاء الحَسنُ بن علي فصَعِد إليه فضمه رسول الله ﷺ، وقال: "ألا إن ابني هذا سيّدٌ، وإنَّ الله ﷿ عَلَّه أن يُصلح به بين فئتين من المسلمين عظيمتين" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4810 - أخرجهما البخاري من طريق أبي موسى إسرائيل عن الحسن
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4810 - أخرجهما البخاري من طريق أبي موسى إسرائيل عن الحسن
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے کہ اتنے میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما آئے اور (منبر پر) آپ ﷺ کے پاس چڑھ گئے، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے ساتھ لگا لیا اور فرمایا: ”آگاہ رہو کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور یقیناً اللہ عزوجل سے امید ہے کہ وہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے مابین صلح کرا دے گا۔“
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوْرِي، حدثنا قُرَادٌ أبو نُوح، أخبرنا القاسم بن الفضل، عن يوسف بن مازن، قال: عَرَض رجلٌ للحسن بن علي حين بايع معاوية، فأنبَّه وقال: سَوَّدت وجوه المؤمنين، وفعلتَ وفعلت، فقال: لا تُؤنِّبني، فإنَّ رسول الله ﷺ رأى بني أميَّة يتواثَبُون على مِنبَره رجلًا رجلًا، فشق ذلك عليه واهتمَّ، فأنزل الله ﷿: ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ (1)﴾ [الكوثر: 1] نهرٌ في الجنة، ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (1) وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ (2) لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ﴾، يقولُ (1): بَعدَك (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4811 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4811 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
یوسف بن مازن سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے سامنے اس وقت اعتراض کیا جب انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی، اس نے انہیں ملامت کی اور کہا: آپ نے مومنین کے چہرے سیاہ کر دیے، اور آپ نے ایسا ایسا کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے ملامت نہ کرو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے (خواب میں) بنو امیہ کو اپنے منبر پر ایک ایک کر کے اچھلتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ کو یہ بہت گراں گزرا اور آپ غمزدہ ہو گئے، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الكوثر: 1] جو جنت میں ایک نہر ہے، اور نازل فرمایا: ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (1) وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ (2) لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ﴾ [سورة القدر: 1-3] یعنی آپ (ﷺ) کے بعد (ان کی حکومت کے ایام)۔“