المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
إِخْبَارُ النَّبِيِّ بِأَنَّ الْحَسَنَ يُصْلَحُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ باب: سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان — نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خبر کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائی جائے گی
حدیث نمبر: 4870
وحدثنا محمد بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا عفان وسليمان بن حرب، قالا حدثنا حماد بن زيد، حدثنا علي بن زيد، عن الحسن، عن أبي بكرة قال: بَيْنا رسول الله ﷺ يخطُب الناس إذ جاء الحَسنُ بن علي فصَعِد إليه فضمه رسول الله ﷺ، وقال: "ألا إن ابني هذا سيّدٌ، وإنَّ الله ﷿ عَلَّه أن يُصلح به بين فئتين من المسلمين عظيمتين" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4810 - أخرجهما البخاري من طريق أبي موسى إسرائيل عن الحسنحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے کہ اتنے میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما آئے اور (منبر پر) آپ ﷺ کے پاس چڑھ گئے، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے ساتھ لگا لیا اور فرمایا: ”آگاہ رہو کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور یقیناً اللہ عزوجل سے امید ہے کہ وہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے مابین صلح کرا دے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي بن زيد - وهو ابن جدعان - غير أنه روى هذا الحديث عن الحسن - وهو البصري - جماعةٌ كما تقدَّم تخريجه عند الطريق التي قبل هذه.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، (اگرچہ) یہ سند علی بن زید (بن جدعان) کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے، لیکن حسن (بصری) سے اس حدیث کو ایک جماعت نے روایت کیا ہے جیسا کہ پچھلے طریق کی تخریج میں گزر چکا۔
وأخرجه أحمد 34 / (20499)، وأبو داود (4662) من طرق عن حماد بن زيد بهذا الإسناد.
تخریج / حوالہ: اسے احمد (34/ 20499) اور ابوداؤد (4662) نے حماد بن زید کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، (اگرچہ) یہ سند علی بن زید (بن جدعان) کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے، لیکن حسن (بصری) سے اس حدیث کو ایک جماعت نے روایت کیا ہے جیسا کہ پچھلے طریق کی تخریج میں گزر چکا۔
وأخرجه أحمد 34 / (20499)، وأبو داود (4662) من طرق عن حماد بن زيد بهذا الإسناد.
تخریج / حوالہ: اسے احمد (34/ 20499) اور ابوداؤد (4662) نے حماد بن زید کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4870 سے ماخوذ ہے۔