حدیث نمبر: 4868
حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق وعلي بن حَمْشاد، قالا: حدثنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثنا أبو موسى، سمعتُ الحسن يقول: استقبلَ الحَسنُ بن علي معاوية بكتائب أمثال الجبال، فقال عمرو بن العاص: والله إني لأرى كتائب لا تُولِّي أو تقتل أقرانها، فقال معاوية - وكان خير الرجُلين -: أرأيت إن قَتلَ هؤلاء هؤلاء، مَن لي بدمائهم؟ من لي بأمورهم؟ من لي بنسائهم؟ قال: فبعث معاوية عبد الرحمن بن سَمُرة بن حبيب بن عبد شمس - قال سفيان: وكانت له صحبةٌ - فصالح الحسنُ معاوية وسلَّم الأمر له، وبايعه بالخلافة على شروطٍ ووثائق، وحَمَلَ معاوية إلى الحسن مالًا عظيمًا يقال: خمس مئة ألف ألف درهم، وذلك في جمادى الأولى سنة إحدى وأربعين، وإنما كان وَلِيَ إلى أن سَلَّمَ الأمرَ (1) لمعاوية سبعة أشهرٍ وأحد عشر يومًا (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4808 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا حسن (بصری) سے روایت ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پہاڑوں جیسے لشکر لے کر معاویہ (رضی اللہ عنہ) کے مقابلے پر آئے، تو عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں ایسے لشکر دیکھ رہا ہوں جو پیٹھ نہیں پھیریں گے یہاں تک کہ اپنے مد مقابل کو قتل کر دیں، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر یہ ایک دوسرے کو قتل کر دیں گے تو ان کے خون (کے قصاص)، ان کے معاملات اور ان کی بیوہ عورتوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری مجھ پر کون اٹھائے گا؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن بن سمرہ بن حبیب بن عبد شمس رضی اللہ عنہ کو بھیجا (سفیان کہتے ہیں کہ وہ صحابی تھے)، پس سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی اور اقتدار ان کے سپرد کر دیا، اور بعض شرائط اور عہد و پیمان پر ان کی خلافت کی بیعت کر لی، اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی طرف ایک خطیر رقم روانہ کی جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ پچاس کروڑ درہم تھی، یہ واقعہ جمادی الاولیٰ 41 ہجری کا ہے، اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کی مدت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کرنے تک سات ماہ اور گیارہ دن تھی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4868
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،الحميدي: هو عبد الله بن الزبير بن عيسى الأسدي، وسفيان: هو ابن عُيينة وأبو موسى: هو إسرائيل بن موسى، والحسن: هو ابن أبي الحسن البصري.» [ترقيم الرساله 4868] [ترقيم الشركة 4836] [ترقيم العلميه 4808]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) المثبت من (م) و (ع)، وجاءت العبارة في بقية النسخ مُشوّشة.
نسخوں کا اختلاف: یہ متن (م) اور (ع) سے ثابت کیا گیا ہے، جبکہ باقی نسخوں میں عبارت مشوش (گڈمڈ) ہے۔
(2) إسناده صحيح. الحميدي: هو عبد الله بن الزبير بن عيسى الأسدي، وسفيان: هو ابن عُيينة وأبو موسى: هو إسرائيل بن موسى، والحسن: هو ابن أبي الحسن البصري.
درجۂ سند: یہ سند "صحیح" ہے۔ حمیدی سے مراد "عبداللہ بن الزبیر بن عیسیٰ الاسدی"، سفیان سے مراد "ابن عیینہ"، ابوموسیٰ سے مراد "اسرائیل بن موسیٰ" اور الحسن سے مراد "ابن ابی الحسن البصری" ہیں۔
وأخرجه البخاري (2704) عن عبد الله بن محمد المُسنَدي، و (7109) عن علي بن عبد الله المديني، كلاهما عن سفيان بن عيينة، به. وزادا: أن معاوية أرسل مع عبد الرحمن بن سمُرة رجلًا آخر هو عبد الله بن عامر بن كُريز، ولم يذكرا فيه ما أعطاه معاوية للحسن من مالٍ عظيم، ولا مدة خلافة الحسن بن علي.
تخریج / حوالہ: اسے بخاری نے (2704) میں عبداللہ بن محمد المسندی سے اور (7109) میں علی بن عبداللہ المدینی سے روایت کیا، یہ دونوں اسے سفیان بن عیینہ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
اضافہ: ان دونوں نے یہ اضافہ کیا کہ معاویہ نے عبدالرحمن بن سمرہ کے ساتھ ایک اور شخص "عبداللہ بن عامر بن کریز" کو بھی بھیجا تھا۔ البتہ انہوں نے اس میں معاویہ کی طرف سے حسن کو دی جانے والی خطیر رقم کا اور حسن بن علی کی خلافت کی مدت کا ذکر نہیں کیا۔
وقوله: يقال: خمس مئة ألف ألف درهم، كذلك جاء في نسخ "المستدرك"، وضُبِّب في (ز) على الألف الثانية، والظاهر أنَّ ذكر الألف الثانية وهمٌ، فقد روى عبد الله بن بُريدة بسند قوي عند ابن أبي شيبة 11/ 94، وأبي عروبة الحراني في "الأوائل" (168) وغيرهما: أن معاوية قال للحسن بن علي: لأُجيزنّك بجائزة لم أُجِزْ بها أحدًا قبلك، ولا أُجيزُ بها أحدًا بعدك من العرب، فأجازه بأربع مئة ألف درهم، فقبلها. وهذا يؤيد الوهم في زيادة الألف الثانية.
فنی نکتہ / وہم: یہ قول کہ "کہا جاتا ہے: پانچ سو ہزار ہزار (یعنی 50 کروڑ) درہم"، "المستدرک" کے نسخوں میں اسی طرح آیا ہے، اور نسخہ (ز) میں دوسرے لفظ "الف" (ہزار) پر "ضبہ" (نشانی) لگائی گئی ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ دوسرے "الف" کا ذکر وہم (غلطی) ہے۔ کیونکہ عبداللہ بن بریدہ نے قوی سند کے ساتھ ابن ابی شیبہ (11/ 94) اور ابوعروبہ الحرانی نے "الاوائل" (168) وغیرہ میں روایت کیا ہے کہ معاویہ نے حسن بن علی سے کہا: "میں تمہیں ایسا انعام دوں گا جو میں نے تم سے پہلے کسی کو نہیں دیا اور نہ عربوں میں تم سے بعد کسی کو دوں گا"، چنانچہ انہوں نے انہیں چار لاکھ (400,000) درہم دیے اور انہوں نے قبول کر لیے۔ یہ بات دوسرے "الف" کی زیادتی کے وہم ہونے کی تائید کرتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4868 سے ماخوذ ہے۔