کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان — خلافت کے معاملے میں ایک شخص کی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے گفتگو، ان کا جواب، اور سورۃ ﴿اِنَّا اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ﴾ کے نزول کا بیان
أخبرني أبو الحسن محمد بن عبد الله العُمري، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا أبو موسى، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، قال: سمعت يزيد بن خُمَير يحدِّث أنه سمع عبد الرحمن بن جُبير بن نُفير يحدّث عن أبيه، قال: قلتُ للحسن بن عليّ: إنَّ الناس يقولون: إنك تريد الخلافة، فقال: قد كان جَماجِمُ العرب في يدي يُحاربون من حاربتُ، ويُسالمون من سالمتُ، تركتها ابتغاء وجه الله تعالى وحَقْنِ دماء أمةٍ محمدٍ ﷺ، ثم أبتَزُّها بأتياس أهل الحجاز؟! (1) هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4795 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4795 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
عبد الرحمن بن جبیر بن نفیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ خلافت کا ارادہ رکھتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: ”عربوں کے سردار میرے ہاتھ میں تھے، وہ اس سے لڑتے تھے جس سے میں لڑتا اور اس سے صلح کرتے جس سے میں صلح کرتا، میں نے اللہ تعالیٰ کی رضا اور امتِ محمدیہ ﷺ کا خون بچانے کی خاطر اسے چھوڑ دیا، تو کیا (اب) میں اہل حجاز کے لوگوں کے چھوٹے اقتدار کے لیے طلب کروں؟!“
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن عَمْرَويهِ الصَّفّار ببغداد، حدثنا أحمد بن زُهير بن حَرْب، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا القاسم بن الفضل الحُداني. وأخبرني أبو الحسن العُمري (2)، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا أبو طالب زيد بن أخْزم الطائي، حدثنا أبو داود، حدثنا القاسم بن الفضل، حدثنا يوسف بن مازن الراسبي، قال: قام رجلٌ إلى الحسن بن علي فقال: يا مُسوِّدَ وجوه المؤمنين، فقال الحسنُ: لا تُؤنِّبْني رحمك الله، فإنَّ رسول الله ﷺ قد رأى بني أُميّة يَخطبون على مِنبَرِه رجلًا رجلًا، فساءه ذلك، فنزلت: ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ (1)﴾ [الكوثر: 1]، نهرٌ في الجنة، ونزلت: ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (1) وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ (2) لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ﴾، يَملِكُه (1) بنو أُميّة، فحَسَبْنا ذلك، فإذا هو لا يزيد ولا يَنقُصُ (2). هذا إسناد صحيح، وهذا القائل للحسن بن علي هذا القول هو سفيان بن الليل صاحبُ أبيه.
حافظ طلحہ بابر
یوسف بن مازن راسبی سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی طرف بڑھا اور کہا: اے مومنوں کے چہرے سیاہ کرنے والے، تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ تم پر رحم کرے، مجھے ملامت نہ کرو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے خواب میں بنو امیہ کو اپنے منبر پر ایک ایک کر کے خطبہ دیتے دیکھا جس سے آپ ﷺ کو رنج ہوا، تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الكوثر: 1] جو جنت کی ایک نہر ہے، اور یہ نازل ہوئی: ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (1) وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ (2) لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ﴾ [سورة القدر: 1-3] جس (ایک ہزار ماہ) کے مالک بنو امیہ ہوں گے، پس جب ہم نے اس کا حساب لگایا تو وہ (ان کی حکومت کے ایام) نہ اس سے زیادہ تھے نہ کم۔“
یہ اسناد صحیح ہے اور سیدنا حسن بن علی کو یہ بات کہنے والے سفیان بن لیل تھے جو ان کے والد کے ساتھی تھے۔
یہ اسناد صحیح ہے اور سیدنا حسن بن علی کو یہ بات کہنے والے سفیان بن لیل تھے جو ان کے والد کے ساتھی تھے۔