کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان — بچوں سے محبت اللہ تعالیٰ کی رحمت میں سے ہے
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا محمد بن صالح المديني، حدثنا مُسلم بن أبي مريم، عن سعيد بن أبي سعيد المقبري، قال: كنا مع أبي هريرة فجاء الحسنُ بن علي بن أبي طالب فسلَّم، فرَدَدْنا عليه السلام، ولم يَعلَّم به أبو هريرة، فقلنا له: يا أبا هريرة، هذا الحسن بن عليٍّ قد سلَّم علينا، فلَحِقه، وقال: وعليك السلامُ يا سيدي، ثم قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "إنه سيدٌ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4792 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4792 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سعید بن ابی سعید مقبری سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ اتنے میں سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما تشریف لائے اور سلام کیا، ہم نے ان کے سلام کا جواب دیا مگر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ان کے آنے کا علم نہ ہوا، ہم نے ان سے عرض کیا: اے ابوہریرہ! یہ حسن بن علی ہیں جنہوں نے ہمیں سلام کیا ہے، پس وہ ان کے پیچھے لپکے اور کہا: ”وعلیک السلام اے میرے سردار“، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ: ”بے شک یہ سردار ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا بكر بن محمد الصيرفي بمَرُو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيوة بن شُرَيح، أخبرني أبو صخر، أنَّ يزيد بن عبد الله بن قُسَيط أخبره، أنَّ عُروة بن الزبير أخبره عن أبيه: أن رسول الله ﷺ قَبَّل حَسنًا وضمَّه إليه، وجعل يَشَمُّه، وعنده رجلٌ من الأنصار، فقال الأنصاريُّ: إِنَّ لي ابنًا قد بَلَغَ، ما قبلته قطُّ، فقال رسول الله ﷺ: "أرأيت إن كان الله نَزَعَ الرحمةَ مِن قلبك فما ذنبي" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4793 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4793 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عروہ بن زبیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حسن رضی اللہ عنہ کا بوسہ لیا، انہیں اپنے سینے سے لگایا اور انہیں سونگھنے لگے، آپ ﷺ کے پاس انصار کا ایک شخص بیٹھا تھا، اس انصاری نے کہا: میرا ایک بیٹا ہے جو جوان ہو چکا ہے لیکن میں نے کبھی اس کا بوسہ نہیں لیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحمت نکال لی ہو تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفان العامِري، حدثنا أبو سعيد عمرو بن محمد العَنْقَزي، حدثنا زَمْعة بن صالح، عن سَلَمة بن وَهْرام، عن طاووس، عن ابن عباس، قال: أقبل النبي ﷺ وهو يحمل الحسن بن عليٍّ على رقبته، قال: فلقيَه رجلٌ فقال: نِعمَ المَركَبُ رَكِبتَ يا غلام، قال: فقال رسول الله ﷺ: "ونعم الراكب هو" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4794 - ليس بصحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4794 - ليس بصحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ تشریف لائے جبکہ آپ ﷺ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا، ایک شخص آپ ﷺ سے ملا اور کہنے لگا: اے لڑکے! تم کتنی بہترین سواری پر سوار ہو، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اور کتنا بہترین سوار ہے یہ!“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔