کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان — اذان کے معاملے کا بیان
حدَّثَناه أبو أحمد بكر بن محمد الصيرفي بمَرُو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدثنا السَّرِيّ بن إسماعيل البجلي، عن الشَّعْبي، عن سفيان بن الليل الهَمْداني، قال: أتيتُ الحسن بن علي حين بايع معاوية، فقلت: يا مُسوِّدَ وجوه المؤمنين، ثم ذكره بنحوه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4797 - السري بن إسماعيل واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4797 - السري بن إسماعيل واه
حافظ طلحہ بابر
سفیان بن لیل ہمدانی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس اس وقت آیا جب انہوں نے معاویہ کی بیعت کر لی تھی، تو میں نے کہا: اے مومنوں کے چہرے سیاہ کرنے والے، پھر انہوں نے پچھلی حدیث کی طرح تذکرہ کیا۔
وحدثني نصر بن محمد العَدْل، حدثنا أحمد بن محمد بن سعيد الحافظ، حدثنا أحمد بن يحيى البَجَلي، حدثنا محمد بن إسحاق البَلْخي، حدثنا نُوح بن دَرّاج، عن الأَجلَح، عن البهيّ، عن سفيان بن الليل، قال: لما كان من أمرِ الحسن بن عليٍّ ومعاوية ما كان، قدمت عليه المدينة وهو جالسٌ في أصحابه، فذكر الحديث بطوله. قال: فتذاكرْنا عنده الأذانَ، فقال بعضُنا: إنما كان بَدءُ الأذان رؤيا عبد الله بن زيد بن عاصم، فقال له الحسن بن علي: إنَّ شأن الأذان أعظم من ذاك، أَذَّن جبريل ﵇ في السماء مثنى مثنى، وعلمه رسول الله ﷺ، وأقام مرةً مرةً، فعلمه رسول الله ﷺ، فأذن الحسن حين وَلِيَ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4798 - قال أبو داود نوح بن دراج كذاب
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4798 - قال أبو داود نوح بن دراج كذاب
حافظ طلحہ بابر
سفیان بن لیل سے روایت ہے کہ جب سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان وہ معاملہ (صلح) ہو گیا جو ہونا تھا، تو میں مدینہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ وہ اپنے ساتھیوں میں بیٹھے تھے (پھر راوی نے طویل حدیث ذکر کی)، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ان کے پاس اذان کا تذکرہ کیا تو ہم میں سے بعض نے کہا کہ اذان کی ابتدا عبداللہ بن زید بن عاصم کے خواب سے ہوئی تھی، تو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا: ”اذان کی شان اس سے کہیں زیادہ بلند ہے، جبرائیل علیہ السلام نے آسمان پر دو دو بار اذان دی اور اسے رسول اللہ ﷺ کو سکھایا، اور ایک ایک بار اقامت کہی اور وہ بھی رسول اللہ ﷺ کو سکھائی“، چنانچہ جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ حکمران بنے تو انہوں نے (اسی کے مطابق) اذان دی۔