کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: میں درخت ہوں، فاطمہ اس کی شاخ ہے اور علی اس کا پیوند ہیں
أخبرنا أبو بكر أحمد بن جعفر القطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا داود بن أبي الفُرات، عن عِلْباء بن أَحمر، عن عِكرمة، عن ابن عبّاس، قال: خَطَّ رسول الله ﷺ في الأرض أربعة خُطوطٍ، ثم قال: "أتدرُونَ ما هذا؟ " فقالوا: الله ورسوله أعلمُ، فقال رسول الله ﷺ: "أفضلُ نِساءِ أهل الجنة: خَديجة بنتُ خُوَيلد، وفاطمة بنتُ محمّدٍ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4754 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4754 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور پھر دریافت فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہل جنت کی بہترین خواتین خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد (رضی اللہ عنہما) ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر محمد بن حَيَّوِيهِ بن المؤمل الهمذاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عباد، أخبرنا عبد الرزاق بن همام، حدثني أبي، حدثني أبي، عن ميناء بن أبي ميناء مولى عبد الرحمن بن عوف، قال: خُذُوا عني قبل أن تُشَابَ الأحاديثُ بالأباطيل، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "أنا الشجرة وفاطمةُ فَرعُها، وعليٌّ لقاحها، والحسنُ والحسينُ ثَمَرتُها، وشيعَتُنا ورقُها، وأصلُ الشجرة في جنة عَدْنٍ، وسائرُ ذلك في سائر الجنة" (2). هذا مَتْنٌ شاذٌ، وإن كان كذلك فإنَّ إسحاق الدَّبَري صدوقٌ، وعبد الرزاق أبوه وجدُّه ثِقات، وميناء مولى عبد الرحمن بن عوف قد أدرك النبي ﷺ وسمع منه، والله أعلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4755 - ما قال هذا بشر سوى الحاكم وإنما ذا تابعي ساقط
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4755 - ما قال هذا بشر سوى الحاكم وإنما ذا تابعي ساقط
حافظ طلحہ بابر
عبد الرحمن بن عوف کے مولیٰ میناء بن ابی میناء سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: احادیث میں باطل باتوں کی آمیزش ہونے سے پہلے مجھ سے (علم) حاصل کر لو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”میں درخت ہوں، فاطمہ اس کی ٹہنی ہے، علی اس کا «لقاح» گاٹھ (پھولوں کا مادہ) ہے، حسن اور حسین اس کا پھل ہیں اور ہماری جماعت کے لوگ اس کے پتے ہیں، اس درخت کی جڑ جنت عدن میں ہے اور باقی حصہ پوری جنت میں پھیلا ہوا ہے۔“
یہ متن شاذ ہے، لیکن اس کے باوجود اسحاق دبری صدوق ہیں، عبد الرزاق ان کے والد اور دادا ثقہ ہیں، اور میناء نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا اور ان سے سماعت کی ہے، واللہ اعلم۔
یہ متن شاذ ہے، لیکن اس کے باوجود اسحاق دبری صدوق ہیں، عبد الرزاق ان کے والد اور دادا ثقہ ہیں، اور میناء نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا اور ان سے سماعت کی ہے، واللہ اعلم۔
حدثني أبو الحسن محمد بن أحمد بن شَبَّوَيه الرئيسُ الفقيه بمرو، حدثنا جعفر بن محمد بن الحارث النيسابوري بمَرُو، حدثنا علي بن مهران الرازي، حدثنا سلمة بن الفضل الأبْرَش، حدثنا محمد بن إسحاق، عن يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه، عن عائشة: أنها كانت إذا ذكرت فاطمة بنت النبي ﷺ قالت: ما رأيتُ أحدًا كان أصدق لهجةً منها، إلا أن يكون الذي وَلَدَها (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4756 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4756 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ جب نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتیں تو فرماتیں: میں نے ان (فاطمہ رضی اللہ عنہا ) سے بڑھ کر گفتگو میں سچا کسی کو نہیں دیکھا، سوائے ان کے والد (ﷺ) کے جنہوں نے انہیں جنم دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔