کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپ ان کے احترام میں کھڑے ہو جاتے
أخبرني أحمد بن جعفر بن حمدان البزار، حدثنا إبراهيم بن عبد الله بن مسلم، حدثنا صالح بن حاتم بن وَرْدان، حدثني أبي حدثني أيوب، عن أبي يزيد المديني، عن أسماء بنت عُميس، قالت: كنتُ في زفاف فاطمة بنت رسول الله ﷺ، فلما أصبحنا جاء النبي ﷺ إلى الباب، فقال: "يا أم أيمن، ادعي لي أخي"، فقالت: هو أخوك وتُنكِحُه؟! قال: "نعم يا أم أيمن "فجاء عليٌّ، فنَضَحَ النبي ﷺ عليه من الماء ودعا له، ثم قال: "ادعي لي فاطمة" قالت: فجاءت تَعَثَّرُ من الحياء، فقال لها رسول الله ﷺ: "اسكُني، فقد أنكحتكِ أحب أهل بيتي إلي" قالت: ونضح النبي ﷺ عليها من الماء، ثم رجع رسول الله ﷺ فرأى سوادًا بين يديه، فقال: "من هذا؟ " فقلت: أنا أسماء، قال: "أسماء بنتُ عُميس؟ " قلت: نعم، قال: "جئتِ في زفاف ابنة رسول الله" قلت: نعم، فدعا لي (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4752 - الحديث غلط
حافظ طلحہ بابر
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی میں موجود تھی، جب صبح ہوئی تو نبی کریم ﷺ دروازے پر تشریف لائے اور فرمایا: ”اے ام ایمن! میرے بھائی کو بلاؤ“، انہوں نے عرض کیا: وہ آپ کے بھائی ہیں اور آپ اپنی بیٹی کا نکاح ان سے کر رہے ہیں؟! آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں اے ام ایمن!“ پھر سیدنا علی تشریف لائے تو نبی کریم ﷺ نے ان پر پانی کے چھینٹے مارے اور ان کے لیے دعا فرمائی، پھر فرمایا: ”فاطمہ کو میرے پاس بلاؤ“، اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ حیا کی وجہ سے لڑکھڑاتی ہوئی آئیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”پرسکون رہو، میں نے تمہارا نکاح اپنے اہل بیت میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب شخص سے کیا ہے“، اسماء کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ان پر بھی پانی چھڑکا، پھر رسول اللہ ﷺ واپس مڑے تو اپنے سامنے ایک سایہ دیکھا، دریافت فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں اسماء ہوں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اسماء بنت عمیس؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم رسول اللہ کی بیٹی کی رخصتی کے لیے آئی ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے میرے لیے دعا فرمائی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4807
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف لاضطرابه كما سبق بيانه عند الحديث (4798)
تخریج حدیث «ضعيف لاضطرابه كما سبق بيانه عند الحديث (4798)، ولنكارة متنه، فإنَّ أسماء بنت عميس كانت وقت زفاف فاطمة مع زوجها جعفر بن أبي طالب بالحبشة، وقد أشار إلى هذا الغلط الذهبي في "تلخيصه"، وكذا ابن حجر في "المطالب العالية" (1629) فقال: أسماء بنت عميس كانت في هذا الوقت بأرض الحبشة ...» [ترقيم الرساله 4807] [ترقيم الشركة 4780] [ترقيم العلميه 4752]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوْرِي، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا إسرائيل، عن ميسرة بن حبيب، عن المنهال بن عمرو، عن عائشة بنت طلحة، عن أم المؤمنين عائشة أم المؤمنين أنها قالت: ما رأيتُ أحدًا كان أشبة كلامًا وحديثًا برسول الله ﷺ من فاطمة، وكانت إذا دخلت عليه قام إليها فقبَّلها ورحّب بها، وأخذ بيدها فأجلسها في مَجلسِه، وكانت هي إذا دخل عليها رسول الله ﷺ قامتْ إليه مستقبلةً وقبلت يده (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4753 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے گفتگو اور بات چیت کے انداز میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو رسول اللہ ﷺ کے مشابہ نہیں دیکھا، اور جب وہ آپ ﷺ کے پاس تشریف لاتیں تو آپ ﷺ ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جاتے، ان کا بوسہ لیتے، انہیں خوش آمدید کہتے اور ان کا ہاتھ تھام کر اپنی جگہ پر بٹھاتے، اسی طرح جب رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ آپ ﷺ کے استقبال کے لیے کھڑی ہو جاتیں اور آپ ﷺ کے دستِ مبارک کا بوسہ لیتیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4808
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،إسرائيل: هو ابن يونس بن أبي إسحاق السبيعي.» [ترقيم الرساله 4808] [ترقيم الشركة 4781] [ترقيم العلميه 4753]