حدیث نمبر: 4808
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوْرِي، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا إسرائيل، عن ميسرة بن حبيب، عن المنهال بن عمرو، عن عائشة بنت طلحة، عن أم المؤمنين عائشة أم المؤمنين أنها قالت: ما رأيتُ أحدًا كان أشبة كلامًا وحديثًا برسول الله ﷺ من فاطمة، وكانت إذا دخلت عليه قام إليها فقبَّلها ورحّب بها، وأخذ بيدها فأجلسها في مَجلسِه، وكانت هي إذا دخل عليها رسول الله ﷺ قامتْ إليه مستقبلةً وقبلت يده (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4753 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے گفتگو اور بات چیت کے انداز میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو رسول اللہ ﷺ کے مشابہ نہیں دیکھا، اور جب وہ آپ ﷺ کے پاس تشریف لاتیں تو آپ ﷺ ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جاتے، ان کا بوسہ لیتے، انہیں خوش آمدید کہتے اور ان کا ہاتھ تھام کر اپنی جگہ پر بٹھاتے، اسی طرح جب رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ آپ ﷺ کے استقبال کے لیے کھڑی ہو جاتیں اور آپ ﷺ کے دستِ مبارک کا بوسہ لیتیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4808
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،إسرائيل: هو ابن يونس بن أبي إسحاق السبيعي.» [ترقيم الرساله 4808] [ترقيم الشركة 4781] [ترقيم العلميه 4753]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. إسرائيل: هو ابن يونس بن أبي إسحاق السبيعي.
درجۂ حدیث: (1) اس کی اسناد صحیح ہے۔
فنی نکتہ / راوی: اسرائیل: یہ "اسرائیل بن یونس بن ابی اسحاق السبیعی" ہیں۔
وقد تقدَّم برقم (4785) من طريق محمد بن إسحاق الصغاني عن عثمان بن عمر.
حوالہ / مصدر: یہ حدیث نمبر (4785) پر محمد بن اسحاق الصغانی کے طریق سے گزر چکی ہے جو عثمان بن عمر سے روایت کرتے ہیں۔
وفي هذه الرواية ورواية الطبراني في "الأوسط" (4089) بيان لمحل تقبيل فاطمة لأبيها ﷺ حيث جاء ذلك مطلقًا في الروايات الأخرى، فتبين هنا وعند الطبراني أن المراد تقبيل يده ﷺ، والله تعالى أعلم. وفي رواية أبي داود (5217) ما يشير إليه، حيث جاء في روايته: فأخذت بيده فقبلته.
تفصیلِ روایت: اس روایت میں اور طبرانی کی "الاوسط" (4089) کی روایت میں اس مقام کا بیان ہے جہاں سیدہ فاطمہ اپنے والد ﷺ کا بوسہ لیتی تھیں، جبکہ دیگر روایات میں یہ مطلق (بغیر تعین کے) آیا ہے۔ پس یہاں اور طبرانی کے ہاں یہ واضح ہوا کہ مراد "دستِ مبارک کا بوسہ" ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔
متابعات و شواہد: اور ابوداود (5217) کی روایت میں اس کی طرف اشارہ ملتا ہے، جہاں ان کی روایت میں ہے: "پس انہوں نے آپ ﷺ کا ہاتھ مبارک تھاما اور اسے چوم لیا۔"
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4808 سے ماخوذ ہے۔