کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے اس بات کی خبر کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ناکثین اور دیگر گروہوں سے قتال کریں گے
حدثنا دَعلَج بن أحمد السِّجْزي ببغداد، حدثنا عبد العزيز بن معاوية البصري، حدثنا عبد العزيز بن الخطَّاب، حدثنا ناصح بن عبد الله المُحلِّمي، عن عطاء بن السائب، عن أنس بن مالك قال: دخلتُ مع النبيِّ ﷺ على عليّ بن أبي طالب يعودُه وهو مريضٌ، وعنده أبو بكر وعمر، فتحوَّلا حتى جلس رسولُ الله ﷺ، فقال أحدُهما لصاحبِه: ما أُراه إلَّا هالكًا، فقال رسولُ الله ﷺ: "إنه لن يموتَ إلَّا مقتولًا، ولن يموتَ حتى يُملأَ غَيظًا" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4673 - إسناد واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4673 - إسناد واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گیا جبکہ وہ بیمار تھے اور ان کے پاس سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے تھے، وہ دونوں اپنی جگہ سے ہٹ گئے اور رسول اللہ ﷺ وہاں بیٹھ گئے، ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ یہ (علی) اس بیماری سے بچ پائیں گے، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ (علی) ہرگز نہیں مریں گے مگر یہ کہ انہیں شہید کیا جائے گا، اور وہ اس وقت تک نہیں مریں گے جب تک کہ وہ (باطل کے خلاف) غیظ و غضب سے بھر نہ دیے جائیں۔“
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا الحسن بن علي بن شَبيب المَعْمَري، حدثنا محمد بن حُميد، حدثنا سَلَمة بن الفضل، حدثني أبو زيد الأحول، عن عَتّاب بن ثعلبة، حدثني أبو أيوب الأنصاري في خلافة عمر بن الخطّاب، قال: أمَرَ رسولُ الله ﷺ عليَّ بن أبي طالب بقتالِ الناكِثينَ والقاسِطينَ والمارِقينَ (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4674 - لم يصح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4674 - لم يصح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بیان فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو «ناكثين» (بیعت توڑنے والوں)، قاسطین (ظالم و سرکش گروہ) اور «مارقين» (دین سے نکل جانے والے خارجیوں) سے قتال کرنے کا حکم دیا تھا۔“
حدّثَناه أبو بكر بن بالَوَيهِ حدثنا محمد بن يونس القرشي، حدثنا عبد العزيز بن الخطّاب، حدثنا علي بن غُراب، عن علي بن أبي فاطمة، عن الأصبَغ بن نُبَاتة، عن أبي أيوب الأنصاري، قال: سمعتُ النبيَّ ﷺ يقول لعَليّ بن أبي طالب: "تُقاتِلُ الناكِثين والقاسِطين والمارِقين بالطُّرُقات والنَّهْروانات وبالشَّعَفات (1) "، قال أبو أيوب قلتُ: يا رسول الله، مع من نقاتلُ هؤلاءِ الأقوام؟ قال: "مع عليّ بن أبي طالبٍ" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم ناکثین، قاسطین اور مارقین سے راستوں پر، نہروانات میں اور پہاڑی چوٹیوں پر قتال کرو گے۔“ سیدنا ابو ایوب انصاری فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ان لوگوں کے خلاف کس کے ساتھ مل کر قتال کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”علی بن ابی طالب کے ساتھ۔“
حدثنا أبو حفص عمر بن أحمد الجُمَحي بمكة، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا عمرو بن عَوْن، حدثنا هُشيم، عن إسماعيل بن سالم، عن أبي إدريس الأَوْدي، عن علي قال: إنَّ ممّا عَهِدَ إِليَّ النبيُّ ﷺ أَنَّ الأُمَّةَ سَتَغدِرُ بي بعدَه (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4676 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4676 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”بے شک ان باتوں میں سے جن کا نبی کریم ﷺ نے مجھ سے عہد لیا تھا ایک یہ بھی ہے کہ عنقریب یہ امت میرے بعد میرے ساتھ بے وفائی اور غداری کرے گی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدثنا سهل بن المتوكِّل، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا محمد بن فُضيل، عن أبي حيَّان التيمي، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس قال: قال النبي ﷺ لِعليٍّ: "أمَا إنك ستَلْقى بَعدي جَهْدًا"، قال: في سَلامةٍ من دِيني؟ قال: "في سَلامةٍ من دِينِك" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4677 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4677 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”آگاہ رہو کہ میرے بعد تمہیں بڑی مشقت اور آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا۔“ انہوں نے عرض کیا: ”کیا اس وقت میرا دین سلامت رہے گا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، تمہارا دین سلامت رہے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔