المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
إِخْبَارُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - بِمُقَاتَلَةِ عَلِيٍّ النَّاكِثِينَ وَغَيْرَهُمْ . باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے اس بات کی خبر کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ناکثین اور دیگر گروہوں سے قتال کریں گے
حدیث نمبر: 4728
أخبرنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدثنا سهل بن المتوكِّل، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا محمد بن فُضيل، عن أبي حيَّان التيمي، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس قال: قال النبي ﷺ لِعليٍّ: "أمَا إنك ستَلْقى بَعدي جَهْدًا"، قال: في سَلامةٍ من دِيني؟ قال: "في سَلامةٍ من دِينِك" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4677 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”آگاہ رہو کہ میرے بعد تمہیں بڑی مشقت اور آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا۔“ انہوں نے عرض کیا: ”کیا اس وقت میرا دین سلامت رہے گا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، تمہارا دین سلامت رہے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده جيد من أجل محمد بن فضيل، فهو لا بأس به إلّا أنه كان غاليًا في التشيُّع. أبو حَيَّان التيمي: هو يحيى بن سعيد بن حَيّان.
درجۂ حدیث: اس کی اسناد جید (عمدہ) ہے محمد بن فضیل کی وجہ سے، کیونکہ وہ "لا بأس بہ" (قابلِ قبول) ہیں سوائے اس کے کہ وہ تشیع میں غالی تھے۔
تعینِ راوی: ابو حیان التیمی: یہ یحییٰ بن سعید بن حیان ہیں۔
وانظر لزامًا تخريج الحديث المتقدم برقم (4723).
حوالہ / مصدر: گزشتہ حدیث نمبر (4723) کی تخریج لازمی ملاحظہ کریں۔
درجۂ حدیث: اس کی اسناد جید (عمدہ) ہے محمد بن فضیل کی وجہ سے، کیونکہ وہ "لا بأس بہ" (قابلِ قبول) ہیں سوائے اس کے کہ وہ تشیع میں غالی تھے۔
تعینِ راوی: ابو حیان التیمی: یہ یحییٰ بن سعید بن حیان ہیں۔
وانظر لزامًا تخريج الحديث المتقدم برقم (4723).
حوالہ / مصدر: گزشتہ حدیث نمبر (4723) کی تخریج لازمی ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4728 سے ماخوذ ہے۔