کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ابو تراب کا لقب دیے جانے کی وجہ
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو مسلم، حدثنا إبراهيم بن بشّار، حدثنا سفيان، عن عبد الملك بن أَعْيَن، عن أبي حرب بن أبي الأسود الدِّيْلي، عن أبيه، عن علي، قال: أتاني عبدُ الله بن سَلَام وقد وَضَعتُ رِجْلي في الغَرْزِ وأنا أُريد العراقَ، فقال: لا تأتي (1) العراقَ، فإنك إن أتيتَه أصابكَ به ذُبابُ السَّيف، قال عليُّ: وايْمُ اللهِ، لقد قالها لي رسولُ الله ﷺ قَبلَك. قال أبو الأسود: فقلتُ في نفسي: يا للهِ! ما رأيتُ كاليوم، رجلٌ محاربٌ يُحدِّث الناسَ بمثلِ هذا (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4678 - ابن بشار ذو مناكير وابن أعين غير مرضي
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب میں نے عراق جانے کے ارادے سے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا: ”عراق نہ جائیں، کیونکہ اگر آپ وہاں گئے تو آپ کو تلوار کی دھار کا سامنا کرنا پڑے گا۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ بات مجھ سے تم سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے فرمائی تھی۔“ ابوالاسود کہتے ہیں کہ میں نے اپنے جی میں کہا: سبحان اللہ! میں نے آج کے دن جیسا منظر نہیں دیکھا کہ ایک جنگجو شخص لوگوں کو اس طرح کی (اپنی شہادت کی) باتیں بتا رہا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4729
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل عبد الملك بن أعْيَن.» [ترقيم الرساله 4729] [ترقيم الشركة 4704] [ترقيم العلميه 4678]
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا الحسن بن علي بن بحر بن بَرِّي، حدثنا أبي. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا علي بن بحر بن بَرِّي، حدثنا عيسى بن يونس حدثنا محمد بن إسحاق، حدثني يزيد بن محمد بن خُثَيم المُحارِبي، عن محمد بن كعب القُرَظي، عن محمد بن خُثيم أبِ (3) يزيد بن محمد، عن عمار بن ياسر قال: كنت أنا وعليٌّ رفيقَين في غزوة ذات العُشَيرة، فلما نزلها رسولُ الله ﷺ وأقام بها، رأينا ناسًا من بني مُدلِجٍ يعملون في عَينٍ لهم في نَخلٍ، فقال لي عليٌّ: يا أبا اليَقْظان هل لك أن تأتيَ هؤلاءِ فننظرَ كيفَ يعملُون؟ فجئناهم فنظرنا إلى عملهم ساعةً، ثم غَشِيَنَا النومُ، فانطلقتُ أنا وعليٌّ فاضطجعنا في صَوْرٍ من النخل في دَقْعاءَ من التراب فنِمْنا، فواللهِ ما أَيقَظَنَا إِلَّا رسولُ الله ﷺ يُحرّكُنا برِجْلِه، وقد تَترّبْنا من تلك الدَّقْعاء، فقال رسولُ الله ﷺ: "يا أبا تُراب"، لمَا يَرى عليه من التُّراب، فقال رسول الله ﷺ: "ألا أُحدِّثُكما بأشقى الناسِ رجلَين؟ " قلنا: بلى يا رسول الله، قال: "أُحَيمِرُ ثَمُودَ الذي عَقَر الناقةَ، والذي يَضربُك يا عليُّ على هذه - يعني قَرْنَه - حتى تُبَلَّ [هذه] (1) من الدَّمِ" يعني لحيتَه (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة، إنما اتَّفقا على حديث أبي حازم عن سهل بن سعد: "قُمْ أبا تُرابٍ".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4679 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور علی رضی اللہ عنہ غزوہ ذات العشیرہ میں ایک دوسرے کے رفیق تھے، جب رسول اللہ ﷺ وہاں پہنچے اور قیام فرمایا، تو ہم نے بنی مدلج کے کچھ لوگوں کو دیکھا جو کھجوروں کے باغ میں اپنے ایک چشمے پر کام کر رہے تھے، علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ”اے ابواليقظان! کیا تمہارا ارادہ ہے کہ ہم ان لوگوں کے پاس چلیں اور دیکھیں کہ وہ کیسے کام کرتے ہیں؟“ چنانچہ ہم ان کے پاس گئے اور کچھ دیر ان کا کام دیکھا، پھر ہمیں نیند نے آلیا، میں اور علی رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے اور کھجوروں کے ایک جھنڈ میں خشک مٹی پر لیٹ گئے اور سو گئے، اللہ کی قسم! ہمیں کسی نے نہیں جگایا سوائے رسول اللہ ﷺ کے، آپ ﷺ ہمیں اپنے پائے مبارک سے ہلا رہے تھے، اور ہم اس مٹی سے اَٹ گئے تھے، رسول اللہ ﷺ نے مٹی دیکھ کر فرمایا: ”اے ابوتراب!“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں دو سب سے زیادہ بدبخت انسانوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک تو قومِ ثمود کا وہ سرخ مائل رنگت والا شخص جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹی تھیں، اور دوسرا (اے علی!) وہ شخص جو تمہارے یہاں یعنی سر کے اس حصے پر ضرب لگائے گا یہاں تک کہ اس (خون) سے یہ یعنی تمہاری داڑھی تر ہو جائے گی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس زیادتی کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف ابوحازم کی سہل بن سعد سے مروی حدیث «قُمْ أَبَا تُرَابٍ» ”اے ابوتراب! اٹھو“ پر اتفاق کیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4730
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ليِّن
تخریج حدیث «إسناده ليِّن، يزيد بن محمد بن خثيم تفرد ابن إسحاق بالرواية عنه، ومع ذلك قال ابن معين: ليس به بأس، وقال ابن حجر في "التقريب": مقبول؛ يعني حيث يتابع، وأبوه محمد بن خشيم تفرد محمد بن كعب بالرواية عنه، وقد ذكر غير واحد أنه ولد على عهد النبي ﷺ، وذكره ...» [ترقيم الرساله 4730] [ترقيم الشركة 4705] [ترقيم العلميه 4679]