المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
كَانَ أَقْضَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ . باب: اہلِ مدینہ میں سب سے زیادہ فیصلہ کرنے والے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے
حدیث نمبر: 4706
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا زياد بن الخليل التُّستري، حدثنا كَثير بن يحيى، حدثنا أبو عَوَانة، عن أبي بَلْجٍ، عن عَمرو بن مَيمون، عن ابن عبّاس، أنَّ النبي ﷺ قال: "أيُّكم يَتولّاني في الدنيا والآخرة؟ " فقال لكلِّ رجلٍ منهم: "أتَتَولّاني في الدُّنيا والآخرة"؟ فقال: لا، حتى مَرَّ على أكثرهم، فقال عليٌّ: أنا أتَولّاك في الدُّنيا والآخرةِ، فقال: "أنت وَلِيّي في الدُّنيا والآخرة" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4655 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفهحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے دریافت فرمایا: ”تم میں سے کون ہے جو دنیا اور آخرت میں میری سرپرستی اور وفاداری قبول کرے گا؟“ آپ ﷺ نے ان میں سے ایک ایک شخص سے پوچھا: ”کیا تم دنیا اور آخرت میں میرا ولی بننا قبول کرتے ہو؟“ اس نے انکار کر دیا، یہاں تک کہ آپ ﷺ ان میں سے اکثر کے پاس سے گزرے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میں دنیا اور آخرت میں آپ کا ولی ہوں،“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم دنیا اور آخرت میں میرے ولی ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده فيه مقال كما تقدَّم. عند الحديث رقم (4702)، إذ تقدَّم هناك ضمن خبر مطوَّل في مناقب علي ﵁ من طريق يحيى بن حماد عن أبي عوانة.
درجۂ حدیث: اس کی سند میں کلام (مقال) ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (4702) کے تحت گزر چکا ہے۔ وہاں یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مناقب میں ایک طویل خبر کے ضمن میں یحییٰ بن حماد عن ابی عوانہ کے طریق سے گزرا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند میں کلام (مقال) ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (4702) کے تحت گزر چکا ہے۔ وہاں یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مناقب میں ایک طویل خبر کے ضمن میں یحییٰ بن حماد عن ابی عوانہ کے طریق سے گزرا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4706 سے ماخوذ ہے۔