حدثنا الحسن بن يعقوب العدل، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا جعفر بن عَون، عن مِسعَر، عن أبي عَون، عن أبي صالح، عن علي، قال: قال رسولُ الله ﷺ يومَ بدرٍ لي ولأبي بكر: "عن يمينِ أحدِكُما جبريلُ، والآخَرِ ميكائيلُ، وإسرافيلُ مَلَكٌ عظيمٌ يشهدُ القتالَ ويكونُ في الصفِّ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4653 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4653 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگِ بدر کے دن مجھ سے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم میں سے ایک کے دائیں جانب جبریل (علیہ السلام) ہیں اور دوسرے کے ساتھ میکائیل (علیہ السلام) ہیں، جبکہ اسرافیل (علیہ السلام) ایک عظیم فرشتے ہیں جو لڑائی میں حاضر ہوتے ہیں اور صفوں میں موجود رہتے ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا أبي، عن ابن إسحاق، قال: حدثني عبد الله بن عبد الرحمن بن مَعْمَر أبو طُوَالة الأنصاري، عن سليمان بن محمد بن كعب بن عُجْرة، عن زينب بنت [كعب، وكانت عند] (2) أبي سعيد، عن أبي سعيد الخُدْري، قال: شَكى عليَّ بن أبي طالب الناسُ إلى رسولِ الله ﷺ، فقام فينا خَطيبًا، فسمعتُه يقول: "أيها الناسُ، لا تَشكُوا عليًّا، فوالله إنه لأُخَيشِنُ في ذاتِ الله وفي سبيلِ الله" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يثخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4654 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يثخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4654 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شکایت کی، تو آپ ﷺ ہمارے درمیان خطاب کے لیے کھڑے ہوئے اور میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اے لوگو! علی کی شکایت نہ کرو، کیونکہ اللہ کی قسم وہ اللہ کی ذات اور اس کی راہ کے معاملے میں بہت سخت اور اصول پسند ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔