کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہلِ بیت کو جمع فرمایا اور آیتِ تطہیر کی تلاوت فرمائی
أخبرنا أبو بكر أحمد بن جعفر بن حمدان القَطِيعي ببغداد من أصل كتابه، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يحيى بن حماد، حدثنا أبو عَوَانة، حدثنا أبو بَلْج، حدثنا عمرو بن ميمون قال إني لَجالِسٌ إلى ابن عبّاس، إذ أتاه تسعةُ رَهْط، فقالوا: يا أبا عبّاس، إما أن تقومَ معنا، وإما أن تَخلُوَ بنا من بين هؤلاء، قال: فقال ابن عبّاس: بل أنا أقومُ معكم، قال: وهو يومئذٍ صحيحٌ قبل أن يَعْمَى، قال: فابتدَؤوا فتحدّثُوا، فلا ندري ما قالوا، قال: فجاء يَنفُضُ ثوبَه، ويقول: أُفٍّ وتُفٍّ، وَقَعُوا في رجل له بضعَ عشر فضائلَ ليست لأحدٍ غيرِه، وقَعُوا في رجل قال له النبيُّ ﷺ: "لأبعثَنَّ رجلًا لا يُخزيه الله أبدًا، يُحبُّ الله ورسوله، ويحبُّه اللهُ ورسولُه" فاستشرف لها مُستشرِفٌ، فقال: "أين عليٌّ؟ فقالوا: إنه في الرَّحَى يَطحَنُ، قال: وما كان أحدُهم ليَطحَنَ، قال: فجاء وهو أرمَدُ لا يكادُ أن يُبصِر، قال: فنَفَثَ فِي عَينَيه، ثم هَزَّ الرايةَ ثلاثًا فأعطاها إياه، فجاء عليٌّ بصفيّةَ بنت حُيَيّ. قال ابن عبّاس: ثم بعث رسولُ الله ﷺ فلانًا بسُورة التوبة، فبعث عليًّا خَلْفه، فأخذها منه، وقال: "لا يذهبُ بها إلَّا رجلٌ هو مني وأنا منه". فقال ابن عبّاس: وقال النبي ﷺ لبني عَمِّه: "أَيُّكُم يُوالِيني في الدنيا والآخرة؟ " قال: وعليٌّ جالسٌ معهم، فقال رسول الله ﷺ وأقبلَ على رجلٍ رجلٍ منهم، فقال: "أيُّكم يُوالِيني في الدنيا والآخِرة؟ " فأبَوْا، فقال لعليٍّ: "أنت وَليّي في الدنيا والآخرة". قال ابن عبّاس: وكان عليٌّ أولَ مَن آمن مِن الناس بعد خديجةَ. قال: وأخذ رسولُ الله ﷺ ثوبَه فوضعَه على عليٍّ وفاطمةَ وحَسنٍ وحُسينٍ، وقال: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾. قال ابن عبّاس: وشَرَى عليٌّ نفسه فلَبِسَ ثوبَ النبي ﷺ ثم نامَ مكانَه، قال ابن عبّاس: وكان المشركون يَرْمُون رسولَ الله ﷺ، فجاء أبو بكر وعليٌّ نائم، قال: وأبو بكر يَحسَبُ أنه رسولُ الله ﷺ، قال: فقال: يا نبيَّ الله، فقال له عليٌّ: إِنَّ نبي الله ﷺ قد انطلَقَ نحو بئر مَيمونٍ، فأدْرِكْه، قال: فانطلَقَ أبو بكر فدخَلَ معه الغارَ، قال: وجعلَ عليٌّ يُرمَى بالحجارةِ كما كان يُرمَى نبيُّ الله ﷺ وهو يَتَضوَّر وقد لفَّ رأسَه في الثوبِ لا يُخرِجُه حتى أصبحَ، ثم كَشفَ عن رأسِه، فقالوا: إنك لَلَئيم، وكان صاحبُك لا يَتضوَّرُ ونحن نَرميه، وأنت تتضَوَّر، وقد استَنكَرْنا ذلك. قال ابن عبّاس: وخرج رسولُ الله ﷺ في غزوة تبوكَ وخرج بالناس معه، قال: فقال له عليٌّ: أخرجُ معك؟ قال: فقال النبيُّ ﷺ "لا" فبكى عليّ، فقال له: "أمَا تَرضَى أن تكون مني بمنزلةِ هارون من موسى، إلَّا أنه ليس بعدي نبيٌّ، إنه لا ينبغي أن أذهَبَ إِلَّا وأنت خَلِيفتي". قال ابن عبّاس: وقال له رسول الله ﷺ: "أنت وليُّ كلِّ مؤمنٍ بَعدي ومُؤمنةٍ". قال ابن عبّاس: وسدَّ رسولُ ﷺ أبوابَ المسجد غيرَ بابِ عليٍّ، فكان يَدخُل المسجدَ جُنُبًا وهو طريقُه، ليس له طريقٌ غيره. قال ابن عبّاس: وقال رسول الله ﷺ: "مَن كنتُ مَولاهُ فَإِنَّ مَولاهُ عليٌّ". قال ابن عبّاس: وقد أخبرَنا اللهُ ﷿ في القرآن أنه رَضِيَ عن أصحاب الشجرة، فعَلِمَ ما في قُلوبهم، فهل أخبرَنا أنه سَخِطَ عليهم بعدَ ذلك؟! قال ابن عبّاس: وقال نبيُّ الله ﷺ لِعُمر حين قال: ائذَنْ لي فاضربَ عُنقَه، قال: "وكنتَ فاعلًا؟ وما يُدريكَ لعلَّ الله قد اطَّلع على أهلِ بدرٍ فقال: اعمَلُوا ما شِئتُم" (1) . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4652 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کے پاس نو افراد کی ایک جماعت آئی اور کہنے لگی: ”اے ابن عباس! یا تو آپ ہمارے ساتھ چلیں یا ان لوگوں سے الگ ہو کر ہم سے تنہائی میں بات کریں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔“ اور یہ ان کے بینائی جانے سے پہلے کا واقعہ ہے جب وہ تندرست تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ لوگ ان سے باتیں کرنے لگے لیکن ہمیں معلوم نہ ہو سکا کہ انہوں نے کیا کہا، پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے واپس آئے اور ”اف اور تف“ کہتے ہوئے فرمانے لگے: ”یہ لوگ ایسی شخصیت کے بارے میں نازیبا گفتگو کر رہے تھے جن کے لیے دس سے زائد ایسی فضیلتیں ہیں جو کسی اور کے پاس نہیں، یہ اس شخص کے پیچھے پڑے تھے جس کے لیے نبی کریم ﷺ نے (خیبر کے موقع پر) فرمایا تھا: ”میں ایسے شخص کو بھیجوں گا جسے اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا، وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔“ اس پر بہت سے لوگوں نے تمنا کی لیکن آپ ﷺ نے پوچھا: ”علی کہاں ہے؟“ لوگوں نے بتایا کہ وہ چکی پیس رہے ہیں، جبکہ ان کے علاوہ اور کوئی ایسا نہ تھا جو چکی پیستا (یعنی وہ گھریلو کاموں میں مصروف تھے)۔ پھر جب وہ آئے تو ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں اور وہ کچھ دیکھ نہیں پا رہے تھے، آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن ڈالا، پھر جھنڈے کو تین مرتبہ حرکت دے کر ان کے حوالے کر دیا، اور علی (اس جنگ سے) سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو لے کر آئے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مزید فرمایا: ”پھر رسول اللہ ﷺ نے فلاں شخص کو سورہ توبہ دے کر (مکہ) بھیجا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان کے پیچھے روانہ فرمایا تاکہ وہ ان سے سورت واپس لے لیں اور فرمایا: ”اسے لے کر کوئی ایسا شخص ہی جائے گا جو مجھ سے ہو اور میں اس سے ہوں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے چچا زاد بھائیوں سے پوچھا: ”تم میں سے کون ہے جو دنیا اور آخرت میں میری سرپرستی (اور وفاداری) قبول کرے گا؟“ اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ بیٹھے تھے، رسول اللہ ﷺ ایک ایک کر کے ان کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: ”تم میں سے کون ہے جو دنیا اور آخرت میں میرا ولی بنے گا؟“ تو ان سب نے انکار کر دیا، پھر آپ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم دنیا اور آخرت میں میرے ولی ہو۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد لوگوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی تھے۔ آپ ﷺ نے اپنی چادر مبارک لی اور اسے سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم پر ڈال دیا اور فرمایا: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے گھر والو! تم سے ناپاکی دور کر دے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے۔“ [سورة الأحزاب: 33] ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی جان کا سودا کر لیا، انہوں نے نبی کریم ﷺ کے کپڑے پہنے اور آپ ﷺ کی جگہ پر سو گئے، مشرکین (گھر کے باہر سے) رسول اللہ ﷺ پر پتھر پھینک رہے تھے، اتنے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے جبکہ علی رضی اللہ عنہ سو رہے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ انہیں رسول اللہ ﷺ ہی سمجھ رہے تھے، چنانچہ انہوں نے پکارا: ”اے اللہ کے نبی!“ تو علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”اللہ کے نبی ﷺ بئر میمون کی طرف تشریف لے گئے ہیں، آپ ان سے جا ملیں۔“ چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ چلے گئے اور غارِ ثور میں آپ ﷺ کے ساتھ داخل ہو گئے، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر اسی طرح پتھر برسائے جاتے رہے جیسے اللہ کے نبی ﷺ پر برسائے جاتے تھے اور وہ تکلیف سے کسمسا رہے تھے (مگر جگہ سے نہ ہٹے)، انہوں نے اپنا سر کپڑے میں لپیٹ رکھا تھا اور اسے صبح تک باہر نہیں نکالا، جب صبح انہوں نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو مشرکین نے کہا: ”تم بڑے کمینے ہو، تمہارے ساتھی (محمد ﷺ) پر جب ہم پتھر مارتے تھے تو وہ کسمساہٹ کا اظہار نہیں کرتے تھے جبکہ تم تو تڑپ رہے تھے، ہمیں یہ بات عجیب معلوم ہو رہی تھی۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوہ تبوک کے لیے نکلے اور لوگوں کو ساتھ لیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”کیا میں بھی آپ کے ساتھ نکلوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں،“ تو وہ رونے لگے، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے موسیٰ کے لیے ہارون تھے، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، اور یہ مناسب نہیں کہ میں تمہارے پیچھے چھوڑے بغیر (مدینہ سے) جاؤں کیونکہ تم ہی میرے خلیفہ (قائم مقام) ہو۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم میرے بعد ہر مومن اور مومنہ کے ولی (سرپرست و محبوب) ہو۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کے تمام دروازے بند کروا دیے سوائے علی کے دروازے کے، پس وہ جنابت کی حالت میں بھی مسجد میں داخل ہو سکتے تھے کیونکہ ان کے گھر کا راستہ مسجد ہی سے تھا اور اس کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کا میں مولا ہوں اس کا مولا علی ہے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ عزوجل نے ہمیں قرآن میں خبر دی ہے کہ وہ اصحابِ شجرہ (بیعتِ رضوان والوں) سے راضی ہو گیا اور جو ان کے دلوں میں تھا اسے جان لیا، تو کیا اللہ نے ہمیں (بعد میں) کہیں یہ خبر دی کہ وہ ان سے ناراض ہو گیا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (ایک شخص کے بارے میں) عرض کیا کہ مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں، تو اللہ کے نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم واقعی ایسا کر سکتے ہو؟ اور تمہیں کیا معلوم شاید اللہ تعالیٰ اہل بدر کے حالات سے مطلع ہوا اور فرما دیا: تم جو چاہو عمل کرو (تمہاری بخشش ہو چکی ہے)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4702
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف بهذه السياقة وفي بعض حروفه مناكير
تخریج حدیث «ضعيف بهذه السياقة وفي بعض حروفه مناكير، تفرد به أبو بلج - واسمه يحيى بن سليم، أو ابن أبي سليم - وهو وإن قوّى أمرَه غيرُ واحد قد قال فيه البخاري: فيه نظر، وأعدل الأقوال فيه أنه يقبل حديثه فيما لا ينفرد به كما قال ابن حبان في "المجروحين"، واستنكر ...» [ترقيم الرساله 4702] [ترقيم الشركة 4677] [ترقيم العلميه 4652]
وقد حدثنا السيد الأوحد أبو يعلى حمزة بن محمد الزَّيدي، حدثنا أبو الحسن علي بن محمد بن مَهْرُوَيهِ القَزْويني القَطّان، قال: سمعت أبا حاتم الرازي يقول: كان يُعجِبُهم أن يَجِدُوا الفضائلَ من رواية أحمد بن حَنبَل.
حافظ طلحہ بابر
ابوحاتم الرازی فرماتے ہیں: ”محدثین کو یہ بات بہت پسند آتی تھی کہ وہ فضائلِ (اہلِ بیت) کو امام احمد بن حنبل کی روایت سے پائیں۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4703
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 4703] [ترقيم الشركة 4678]