المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا . باب: میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں
حدیث نمبر: 4687M1
فإني سمعتُ أبا العباس محمد بن يعقوب في "التاريخ" يقول: سمعت العباس بن محمد الدُّوري يقول: سألت يحيى بنَ مَعِين عن أبي الصَّلْت الهروي، فقال: ثقة، فقلت: أليس قد حدَّث عن أبي معاوية عن الأعمش: "أنا مدينةُ العلم"؟ فقال: قد حدَّث به محمد بن جعفر الفَيْدي، وهو ثقة مأمون (1).
حافظ طلحہ بابر
عباس بن محمد دوری سے روایت ہے کہ میں نے یحییٰ بن معین سے ابوصلت ہروی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ”وہ ثقہ ہیں،“ میں نے عرض کیا: کیا انہوں نے ابو معاویہ کے واسطے سے ”میں علم کا شہر ہوں“ والی حدیث بیان نہیں کی؟ انہوں نے جواب دیا: ”یہ حدیث محمد بن جعفر فیدی نے بھی بیان کی ہے اور وہ ثقہ و مامون ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذا قال ابن معين، وقد كان عنده نوع من التساهل في توثيق الرجال، وكذا ذكره ابن حبان في "ثقاته"، ولم يؤثر توثيقه عن غيرهما، وذكره أبو الوليد الباجي في كتابه "التعديل والتجريح" في رجال البخاري 2/ 624 وقال: يشبه أن يكون مجهولًا، وقال ابن حجر في "تهذيب التهذيب": له أحاديث خولف فيها. وقال المعلِّمي اليماني في تعليقه على "الفوائد المجموعة" 350: عدَّ ابن معين محمد بن جعفر الفيدي متابعًا، وعدَّه غيره سارقًا، ولم يتبيَّن من حال الفيدي ما يشفي. وأما الكلام في أبي الصلت فانظره في الحديث السابق.
تحقیق راوی: ابن معین نے ایسا ہی کہا ہے (یعنی توثیق کی ہے)، حالانکہ ان کے ہاں رجال کی توثیق میں ایک قسم کا "تساہل" پایا جاتا تھا۔ ابن حبان نے بھی انہیں "الثقات" میں ذکر کیا، لیکن ان دونوں کے علاوہ کسی سے ان کی توثیق منقول نہیں۔ ابو الولید الباجی نے "التعدیل و التجریح" (2/ 624) میں ان کا ذکر کیا اور کہا: "یہ مجہول ہونے کے مشابہ ہے۔" ابن حجر نے "تہذیب التہذیب" میں کہا: "اس کی ایسی احادیث ہیں جن میں اس کی مخالفت کی گئی ہے۔" معلمی الیمانی نے "الفوائد المجموعہ" (350) کے حاشیہ میں کہا: "ابن معین نے محمد بن جعفر الفیدی کو متابع شمار کیا ہے جبکہ دوسروں نے اسے (حدیث) چور شمار کیا ہے، اور فیدی کے حال سے کوئی تسلی بخش بات واضح نہیں ہوئی۔" باقی ابوالصلت پر کلام پچھلی حدیث میں گزر چکا ہے۔
تحقیق راوی: ابن معین نے ایسا ہی کہا ہے (یعنی توثیق کی ہے)، حالانکہ ان کے ہاں رجال کی توثیق میں ایک قسم کا "تساہل" پایا جاتا تھا۔ ابن حبان نے بھی انہیں "الثقات" میں ذکر کیا، لیکن ان دونوں کے علاوہ کسی سے ان کی توثیق منقول نہیں۔ ابو الولید الباجی نے "التعدیل و التجریح" (2/ 624) میں ان کا ذکر کیا اور کہا: "یہ مجہول ہونے کے مشابہ ہے۔" ابن حجر نے "تہذیب التہذیب" میں کہا: "اس کی ایسی احادیث ہیں جن میں اس کی مخالفت کی گئی ہے۔" معلمی الیمانی نے "الفوائد المجموعہ" (350) کے حاشیہ میں کہا: "ابن معین نے محمد بن جعفر الفیدی کو متابع شمار کیا ہے جبکہ دوسروں نے اسے (حدیث) چور شمار کیا ہے، اور فیدی کے حال سے کوئی تسلی بخش بات واضح نہیں ہوئی۔" باقی ابوالصلت پر کلام پچھلی حدیث میں گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4687 سے ماخوذ ہے۔