کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے علی کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی
أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا محمد بن سعد العَوفي، حدثنا يحيى ابن أبي بُكير، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن أبي عبد الله الجَدَلي قال: دخلتُ على أم سلمة، فقالت لي: أيُسَبُّ رسول الله ﷺ فيكُم؟! فقلتُ: مَعاذَ اللهِ - أو سبحان الله، أو كلمة نحوها - فقالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "من سَبَّ عليًا فقد سَبّني" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وقد رواه بُكَير بن عثمان البَجَلي عن أبي إسحاق بزيادةِ ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4615 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وقد رواه بُكَير بن عثمان البَجَلي عن أبي إسحاق بزيادةِ ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4615 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابو عبد اللہ جدلی سے روایت ہے کہ میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: «أَيُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِيكُمْ؟» میں نے عرض کیا: معاذ اللہ! (یا سبحان اللہ یا اسی طرح کا کوئی جملہ کہا)۔ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے علی کو برا بھلا کہا اس نے مجھے برا بھلا کہا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اسے بکیر بن عثمان بجلی نے ابو اسحاق سے مزید الفاظ کے اضافے کے ساتھ بھی روایت کیا ہے:
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اسے بکیر بن عثمان بجلی نے ابو اسحاق سے مزید الفاظ کے اضافے کے ساتھ بھی روایت کیا ہے:
حدَّثناهُ أبو جعفر أحمد بن عُبيد الحافظ بهَمَذان، حدثنا أحمد بن موسى بن إسحاق التميمي، حدثنا جَندَل بن والِق، حدثنا بُكير بن عثمان، قال: سمعت أبا إسحاق يقول: سمعت أبا عبد الله الجَدَلي يقول: حَجَجتُ وأنا غلامٌ فمررتُ بالمدينة، وإذا الناس عُنُقٌ واحد، فاتّبعتُهم فدخَلُوا على أم سلمة زوج النبي ﷺ، فسمعتُها تقول: يا شَبَث بنَ رِبْعيّ، فأجابها رجلٌ جِلْفٌ جافٍ: لبَّيكِ يا أُمّتاه، قالت: يُسَبُّ رسولُ الله ﷺ في ناديكم؟! قال: وأنّى ذلك؟! قالت: فعليُّ بن أبي طالب؟ قال: إنا لنَقولُ أشياءَ نريدُ عَرَضَ الدنيا، قالت: فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "من سَبَّ عليًا فقد سَبَّني، ومن سَبَّني فقد سبَّ الله تعالى" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4616 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4616 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابو عبد اللہ جدلی سے روایت ہے کہ میں نے لڑکپن میں حج کیا اور مدینہ سے میرا گزر ہوا تو میں نے دیکھا کہ لوگ ایک ہی رخ پر جوق در جوق جا رہے ہیں، میں بھی ان کے پیچھے چل پڑا، وہ لوگ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے، میں نے انہیں فرماتے سنا: ”اے شبث بن ربعی! (تو اس اجڈ اور بد تمیز شخص نے جواب دیا: اے ماں! میں حاضر ہوں) انہوں نے پوچھا: «يُسَبُّ رَسُولُ الله ﷺ فِي نَادِيكُمْ؟» اس نے کہا: ”یہ کیسے ممکن ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”کیا (تمہاری محفلوں میں) علی بن ابی طالب کو برا بھلا نہیں کہا جاتا؟“ اس نے کہا: ”ہم دنیاوی مفادات کی خاطر (ان کے خلاف) ایسی باتیں کہہ دیتے ہیں۔“ انہوں نے فرمایا: ”بلاشبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے علی کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی، اور جس نے مجھے گالی دی اس نے اللہ تعالیٰ کو گالی دی۔““